سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیا؛ 14  اگست 1947 کو جب پاکستان  معرض ِوجود میں آیا اور مشرقی بنگال کو مشرقی پاکستان کا درجہ ملا۔  مشرقی بنگال کے بنگالیوں نےپاکستان کی تحریک میں کلیدی کردار کیا تھا۔ شیخ مجیب الرحمن نے  اپنی طالب علمی کے زمانے میں 1940 میں آل انڈیا مسلم اسٹوڈینٹس فیڈریشن میں شمولیت اختیا کی اور  پھر   1943 میں فیڈریشن کے ایک سال کے لئے کونسل منتخب ہوئے۔ 1948 میں دوران تعلیم ڈھاکہ یونیورسٹی میں شیخ مجیب الرحمن نے مسلم اسٹوڈینٹ لیگ کی بنیاد ڈالی۔ جب 1948 میں پاکستان کے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین ، جو خود بنگالی تھے، نے 23 فروری 1948 کو اسمبلی میں   اپنی تقریر میں کہا کہ مشرقی پاکستان کی عوام اردو کو   پاکستان کی قومی  زبان تسلیم کرلیں گے تو  اس کے خلاف مجیب الرحمن نے طلبا تنظیموں کی طرف سے احتجاج کا اعلان کیا۔   بانی پاکستان قائد اعظم نے  21 مارچ 1948 کو مشرقی پاکستان کا دورہ کیا اور اپنے خطاب میں مشرقی پاکستان کے عوام سے صاف الفاظ میں کہا کہ مشرقی پاکستان کے صوبے کی سرکاری زبان بنگلا ہوئی اور پاکستان کی قومی زبان ایک مسلم ریاست ہونے کے ناطے اردو ہوگی انہوں نے کہا بنگالیوں سے مخاطب ہوکر کہا کہ اگر تم سے کوئی بنگلا زبان کو قومی زبان بنانے کی بات کرتا ہے تو وہ پاکستان کا دشمن ہے۔

یہاں اسِ حقیقت کو بھی بیان کرنا ضروری ہے کہ مشرقی پاکستان کے بنگالی پاکستانیوں کی تعداد کلُ پاکستان میں سب سے زیادہ تھی  لحاظہ مجموعی طور مغربی اور مشرقی پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان بنگالی تھی۔  پاکستان کی اسِ حقیقت سے قطہ نظر کے مشرقی پاکستان کی آبادی مغربی پاکستان سے نہ صرف زیادہ تھی بلکہ تحریک پاکستان میں بھی  عام بنگالیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا،  پاکستان کا دارالخلافہ کراچی کو بنایا گیا اور مرکز کا پاور بھی مغربی پاکستان کی  افسر شاہی ، سیاسی قائدین اور فوجی جرنیلوں کے ہاتھ میں تھا ۔ مشرقی پاکستان کے محب وطن بنگالیوں کو یہ بات  ایک آنکھ نہ بھائی  اور انہوں نے انِ کاروائیوں کو  بنگالیوں سے تعصب کے مترادف قرار دیا۔  مشرق پاکستان کے بنگالیوں کے دلوں میں مغربی پاکستان کی جانب سے تعصب کی ہوا جنم لینے لگی مگر مغربی پاکستان کے حکمرانوں نے اسِ چیز کواسُ وقت سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ بنگالیوں کے جائز مطالبات کو  حقارت کی نظر سے دیکھا۔

 پھر 21 فروری 1952 کو ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلباء نے بنگالی زبان کو پاکستان کی سرکاری  زبان بنانے کے حق میں ایک احتجاج کیا اور ایک ریلیLanguage movement in 1954  بھی نکالی ۔  یہ  ریلی اسُ وقت ہنگامہ کی کیفیت اختیار کر گئی جب پولس نے اُس پر تشدد کیا  جس کے نتیجہ میں  ایک طالب علم کی ہلاکت ہو گئی۔ اسِ کے بعد  مشرقی پاکستان میں نہ صرف بنگالی زبان کو قومی زبان بنانے کی تحریک   کی باقاعدہ بنیاد  پڑھ گئی بلکہ یہ لسانی تحریک حقوق کی  جنگ کی صورت  اختیار کر گئی۔ مارچ 1948 کو فضل الحق کی سربراہی میں ایک ایکشن کونسل کا انعقاد کیا گیا اور 11 مارچ 1948 کو مشرقی پاکستان بھر میں ہڑتال کی گئی اور اسی دنِ مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان میں 17 مارچ 1948 کو بنگلا زبان کو پاکستان کی سرکاری زبان بنانے کے حق میں طلبا کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد مجیب الرحمن نے 1948 میں  جب بھرپور طریقہ سے  سیاست میں قدم رکھا اور تو مسلم لیگ کو چھوڑ کر اپنے مینٹور فضل الحق کی عوامی لیگ میں شمولیت اختیار کر لی جس کے وہ   عوامی لیگ کے جنرل سیکٹری سے ہوتے ہوئے  سربراہ بن گئے ۔  عوامی  لیگ  کی جانب سے مجیب الرحمن نے  مشرقی پاکستان کے بنگالیوں کے حقوق کے نام پر چھ نکات کا اعلان کیا۔ انِ چھ نکات میں صرف ایک نکتہ ایسا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ہر حصہ کی اپنی پیرا ملٹری فورس ہونی چائیے  کہ علاوہ کوئی بھی نکتہ ایسا نہیں تھا جس کے لئے یہ کہا جا سکتا ہو کہ مجیب الرحمن پاکستان توڑنا چاہتا ہے  مگر  مغربی پاکستان کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں نے مجیب الرحمن کے چھ نکات کو پاکستان سے غداری کا نام دیا ۔ مزید تفصیل میں جائے  مجیب الرحمن کو  ملک دشمنی پر جیل میں ڈال دیا گیا اور ایک سال میں رہا ہونے کے بعد ملک بدر کر دیا گیا۔  مجیب الرحمن نے لند ن میں بیٹھ  کر اپنے  چھ نکات  کو بنیاد بنا  کر عوامی  لیگ کو مشرقی پاکستان میں  مضبوط کیا اور بنگالیوں کے دلوں میں اپنے لئے ہمدردی اور پاکستان کے لئے نفرت کو جنم دیا، اسِ نفرت کا اظہار بنگالیوں نے 1970 کے عام انتخاب میں عوامی لیگ کو ووٹ دیکر کیا۔ عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں تقریبا 100 فیصد کامیابی حاصل کی اور پاکستان کی قومی اسمبلی میں مجموعی طور پر اکثریت میں نشستیں حاصل کیں۔ مگر نہ  تو مغربی پاکستان کے سیاستدان، نہ افسرشاہی اور نہ ہی فوجی جرنیل بنگالیوں کو اقتدار سونپنا چاہتا تھے۔ اور پھر پاکستان کے جغرافیہ کے ساتھ کھیلا گیا۔ پاکستان ٹوٹنے کی طرف جا رہا تھا مجیب اپنے نکات سے پیچھے نہیں ہٹھ رہا تھا، عام بنگالی  پاکستان سے علیحدگی  مانگ رہا تھا اور پاکستان کے ایوانوں اور حکومت میں بیٹھی اشرافیہ  اپنے گھمنڈمیں مگن اپنے پاور کا سودا پاکستان کے ٹوٹنے سے کر رہے تھے۔ مجیب الرحمن نے را  کی   مدد سے بھارتی حکومت اور فوج سے مدد مانگی ۔ بھارت نے  موقع ضائع کئے بغیر مجیب الرحمن کی مکتی باہمنی کو اصلحہ سے لیکر ہر طرح کی مدد کی ۔ غرض کے 17 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان بنگلادیش کی شکل میں دنیا کے نقشہ پر ایک نیا ملک بن کر ابھرا اور پاکستان کا جغرافیہ دنیا کے نقشہ پر تبدیل کر نا پڑا۔

پاکستان دو لخت ہو گیا اور اس کے بعد سے اب تک وہی کہانی دوہرائی جا رہی ہے۔ ذاتی مفاداور ذاتی انا کی خاطرآدھے بچے ہوئے پاکستان کو بھی لوٹ مار کر کے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان کی فوج بھی مصلحتوں میں پڑی دکھائی دیتی ہے ورنہ راحیل شریف کو یہ نہیں بھولنا چایئے کہ انہی مکار لیڈران نے فوج کے جرنیلوں کو بھارت کے جرنیلوں کے آگے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا تھا۔

مشرقی پاکستان کے ساتھ کیا ہوا دنیا کو یاد نہیں مگر آج پوری دنیا میں 21 فروری 1952 میں بنگالیوں کی زبان کی تحریک کو انٹرنیشنل لینگویج ڈے سے یاد کیا جاتا ہے جو پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔