:سید عتیق الحسن

سیاستدان اور سیاسی جماعتیں آپ سےووٹ مانگتی ہیں،  اس کے بدلے میں  وہ وعدہ کرتے ہیں کہہ وہ  آپ یعنی عوام کے لئے بنائے گئے اپنے ایجنڈے پر ملک وقوم  کےمفاد میں کام کریں گے۔ ووٹ ایک امانت ہوتا ہے لحاظہ امانت میں خیانت کرنے والا  معاشرتی جرم کا مرتکب ہے۔ ووٹ کی امانت آپ نے اپنے ملک کی بقا ،سلامتی اور عوام کی  بھلائی کے لئے کام کرنے والوں  کو میرٹ پر فیصلہ کرکے  دینا ہے۔ لیکن اگر آپ ووٹ اپنے ذاتی مفاد کے لئے یا  Ballotاپنے خاندان  کے مفاد کے لئے، یا   پھر   رنگ ونسل،  زبان، علاقہ ،فرقہ،  قبیلا یا ذات کی  بنیاد پر  کسی  کو  دیتے ہیں تو میری  رائے میں یہ ایک سنگین معاشرتی جرم ہے جس  کی سزا آپ کو اسِ دنیا میں ہی ملے گی ۔ مثال کے طور پر اگر ووٹ کسی شخص یا جماعت کو آپ اسِ لئے دیتے ہیں کہ وہ آپ کو یا آپ کے کسی عزیز کو ملازمت پر لگوادے گا، یا آپ کو کاروبار کے لئے کوئی پرمٹ لے دیگا یا پھر اسِ لئے کہ  جس کو آپ  ووٹ دیتے ہیں وہ آپ کی نسل، زبان ، فرقہ یا علاقہ سے ہے تو یہ جمہوریت کا قتل کرنے کے مترادف ہے اور قتل کی سزا کیا ہوئی چائیے آپ کو معلوم ہونا چائیے۔

ہم لوگ باتیں  اسلام ، پاکستان ، نظریہ پاکستان اور قومی مفادات کی کرتے ہیں لیکن پاکستان کے سیاسی نظام اور اس میں ہونے والے انتخابات کے تنائج   کو دیکھیں  تو  حقیقت  یہ ہے کہ  پاکستان میں اکثریت میں لوگ ووٹ کا استعمال جس طرح سے کرتے ہیں اور جس مقصد ، نیت اور ایجنڈے  کی  خاطر لوگوں کو دیتے ہیں وہ سنگین معاشرتی جرم ہے۔  مثال کے طور پرنواز شریف کو ووٹ اسِ لئے کہہ وہ پنجاب کے لئے ٹھیک ہے، زرداری کو ووٹ اس لئے  کہ وہ سندھی ہے، الطاف حسین کو ووٹ اس لئے  کہ وہ مہاجر ہے، کیا یہ اسلام کی تعلیمات اور جمہوریت کے اصول ہیں۔ یہ وہی گروہ بندیاں ہیں  کہ جن کا شکار لوگ  اسلام   کے آنے سے پہلے تھے پھر  جس کو ختم کرنے کے اللہ تعالی نے اسلام کو اسِ دنیا میں حضور اکرم ﷺ کے ذریعہ  اسِ دنیا کے انسانوں  تک پہنچایا۔ اور اگر بات کریں پاکستان کی تو اسِ پاکستان کے قیام کی وجہ ہی مسلمانوں  کے ساتھ تعصب اور  انکے جائز بنیادی حقوق سے انحراف تھا۔  

 جیسی نیت ویسے ہی نتائج ۔ شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے کہا ہے؛

عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فظرت میں نہ نُوری ہے نہ ناری ہے

پاکستان کے سیاسی منظر نامہ کو دیکھیں تو ہر الیکشن اور نئی سیاسی حکومت کے بعد پاکستان میں مزید  تباہی ہی آئ ہے۔ کیونکہ اگر حرام کی کمائی سے کوئی کاروبار کیا جائے تو اس سے  حلال کی کمائی کسِ طرح حاصل کی جا سکتی ہے۔ آج اگر پاکستان کی  عوام  روزگار، پانی، بجلی، گیس، پیٹرول، جان و مال کا تحفظ غرض کہ  ہر چیز کے  لیئے پریشان ہے جبکہ اللہ تعالی نے پاکستان کو دنیا کے ایسے نقشہ پر بنایا تھا اور جو دنیا  کی  ہر نعمت سے معمور تھا تو اس کے ذمہ دار یہ وہی لوگ ہیں جو اپنے ووٹ  کا کاروبار  کرتے ہیں اور اپنے ووٹ کے غلط استعمال سے ان لوگوں کو ریاستی طاقت فراہم  فراہم کرتے ہیں جس سے یہ سیاسی مجرم اپنے ذاتی مفادات اور لوٹ مار کے ذریعہ  پاکستان کو مزید کمزور  کرتے ہیں ، عوام کو آپس میں تقسیم کرتے ہیں اور ملک کی سالمیت کا سودا کرتے ہیں۔

آج پاکستان کے شہروں میں رہنے والے پڑھے لکھے لوگ اپنی پسند کی سیاسی جماعتوں اور انکے لیڈران کی اسِ طرح  سے پیروکاری کرتے ہیں جسے ان پر ایمان لے آئے ہوں۔یہ لوگ نہ تو اپنی پسند کی سیاسی جماعتوں اور لیڈران سےیہ پوچھتے ہیں کہ انہوں نے جب ماضی میں ان کو ووٹ دیا تھا تو اس کے بعد انہوں نے ملک و قوم کی بھلائی کے لئے کیا کیا اور نا ہی ان سے یہ پوچھتےہیں کہ ان کے پاس ملک و قوم اور پاکستان کی بھلائی کے لئے کیا ایجنڈا ہے۔ اور  پھر پونچھے بھی کیونکر جب کہ  لوگوں نے ووٹ ہی نسل پرستی، زبان ، علاقہ اور فرقہ پرستی کی بنیاد پر یا ذاتی مفاد کی بنیاد پر دیا تھا۔

لحاظہ اگر پاکستان کو مزید زندہ رکھنا ہے اور اسِ بھٹکی ہوئی قوم  کو رائے راست پر لانا ہے اور انِ جرائم پیشہ عناصر جو سیاسی لبادہ اوڑ ھ کر ملک کو کھوکھلا کر رہے ہیں کو پاکستان کے  ریاستی نظام سے صاف کرنا ہے تو اب اسِ نام نہاد اور فراڈ سیاسی نظام کو سیل  کر نا پڑھے گا۔ پاکستان میں ایک سنگین قسم کی حقیقی آمریت کی ضرورت ہے جس کا صرف ایک ایجنڈا  ہونا چائیے کہ سب سے پہلے پاکستان؛ پاکستان کو بچاناہے لٹیروں کا لٹکانا ہے؛قومی خزانے کو مستحکم کرنا ہے فراڈیوں کے کاروبار بند کرنے ہیں  ؛عام آدمی کو آزادی اور بنیادی  حقوق دینے  ہیں ۔ انِ سیاسی مجروموں کا  اور سیاست کے نام پر معاشرتی جرم کرنے والوں کو عبرتناک سزا دینی ہے۔