:سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیاء

کسی بھی ملک میں جب ایک عام آدمی حالات و واقعات کو وجہ بنا کر اپنے ضمیر کا سودا کرنا شروع کردے، غلط کاموں کو بے بسی اور مجبوری کا نام دیکر اپنی زندگی کا حصہ بنا لے تو پھر عنصر  تاؤن کی طرح معاشرہ میں پھیل جاتا ہے۔ پاکستان میں ایک عام آدمی اپنے ووٹ کا سودا اپنے حالات و واقعات  اور اپنے ذاتی مفاد کو سامنے رکھ کر کرتاہے، اپنی نسل، برادری، زبان اور صوبائیت کو پہلے رکھتا ہے قومی مفاد کو ایک طرف رکھتا ہے۔ لحاظہ اسِ عمل سے  منتخب کئے ہوئے نمائندے بھی اسی کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اگر آج  بدتہذیبی، الزام تراشی، جھوٹ، گالم گلوچ  حتاکہ مار پیٹ پاکستان کے صوبائی اور قومی ایوانوں  کی زینت بن گئی ہے تو اسِ قسم کی جمہورت اور جموری نظام  کو اپنانے  اور پروان چڑھانے والا پاکستان کا ایک عام آدمی ہے۔ یہ عام آدمی  آسان طریقہ سے دولت  اور عیش و عشرت کی زندگی کمانا چاہتا ہے چاہے۔ یہ وہ سارے غلط کام کرتا ہے جس سے معاشرہ تباہ ہوتا ہے اور پھر  اور ساتھ ہی پاکستان میں کرپشن کا رونا  بھی روتا ہے۔ یہ عا م آدمی رشوت دیکر بچے کا پیدائش  سرٹیفیکٹ سے لیکر جوان بچوں کی جعلی ڈگریوں کے لئے پیسہ   پیدا  کرتا ہے تاکہ اس کے بچے ملک سےباہر جاکر پیسہ کما سکیں اور پھر ساتھ اُس اشرافیہ کے خلاف باتیں بھی کرتا ہے جو ملک سے باہر دولت لوٹ کر لے گئے  اور ساتھ ہی  پاکستان میں تبدیلی آنے کی امید بھی لگاتا ہے۔

یہ عام آدمی باقاعدگی سے جمعہ کی نماز جامعہ مسجد میں پڑتا ہے ، راستہ میں پھیلی ہوئی گندگی سےبچ بچا کر نکلتا  ہے مگر اُس کے خلاف اسُ شخص سے سوال نہیں کرتا جس کو اسُ نے ووٹ دیا تھا کہ اگر صفائی نصف ایمان ہے تو علاقہ میں گندگی صاف کرنے پر کام کیوں نہیں ہورہا؟ یہ عام آدمی بھارتی فلمیں اور ڈارمے مزے لیکر اپنے خاندان کے ساتھ دیکھتا ہے اور ساتھ ہی پاک فوج کی حمایت کے دعوے اور بھار ت کے خلاف  مجمہ  میں دیوانہ وار  نعرےبھی لگاتا ہے۔یہ عام آدمی حاکم وقت کو گالیا بھی دیتا ہے اور اگرا س کے جلسے میں مفت  کھانا تقسیم کیا  جانے کا وعدہ بھی کیا گیا ہو اسی کی پارٹی کا جھنڈا اٹھائےجلسے میں  گھنٹوں بیٹھا رہتا ہے کہ اس کے بعد بریانی ملے گی۔ یہ عام   آدمی مزے لیکر  رات کو ٹی وی پر سیاسی مداریوں اور اینکروں کے ناٹک ، الزام تراشیاں اور جھوٹ سے بھرے شوز  دیکھتا ہے اور اپنی اسُ امید کو دوبالا  بھی کرتا ہے کہ ایک  دِن پاکستان میں تبدیلی آئے گی اور اسِ عام آدمی کی زندگی میں  امن و سکون ہوگا۔

یہ عام آدمی طالبعلم بھی ہے، معلم بھی ہے، صحافی بھی ہے، نقاد بھی ہے، ادیب بھی ہے اور شاعر   بھی ہے۔ یہ آدمی باپ بھی ہے، بیٹا بھی ہے ، ماں بھی ہے ، بہن بھی ہے ، بیٹی بھی ہے اور بہو بھی ہے۔ یہ عام آدمی مزدور بھی ہے، کسان بھی ہے، دہقاں بھی ہے،کاروباری بھی ہے توپیشہ ور بھی ہے، تعلیم یافتہ بھی ہے اور ان پڑھ بھی ہے۔ یہ عام آدمی سرکاری افسر بھی ہے، پولس والا بھی ہے، وکیل بھی ہے، منصف بھی ہے اور حاکم وقت بھی ہے۔  یہ آدمی سندھی بھی ہے، پنجابی بھی ہے ، بلوچی بھی ہے، پٹھان بھی ہے ، مہاجر بھی ہے ۔ یہ عام آدمی سنی بھی ہے، شیعہ بھی ہے، وہابی بھی ہے، بریلوی بھی ہے مگر  یہ عام آدمی اپنے آپ کو پاکستانی اسُ وقت کہتا ہے جب اس کو بحیثیت پاکستانی شناخت کی ضرورت  پڑتی  ہے۔ یہ عام  آدمی اپنے آپ کو پاکستانی صرف اسُ وقت کہتا ہے جس اس کو شناختی کارڈ چائیے ہوتا ہے ۔ یہ آدمی اپنے آپ کو پاکستانی صرف اسُ وقت کہتا ہے جب اس کو پاکستان سےباہر سفر کرنے  کے لئے پاسپورٹ چائیے ہوتا ہے۔

یہ جب پاکستان سے باہر کسی ملک میں ہوتا ہے تو اپنی پاکستانی شناخت صرف اسُ وقت استعمال کرتا ہے جب اِس کو  پاکستانی میں  اپنا مفاد نظر آتا ہے۔ یہ عام آدمی دیارِ غیر میں رہ کر بھی اپنی  برادری، نسل ، زبان اور فرقہ کو نہیں بھولتا۔ یہ عام آدمی ترقی یافتہ ممالک میں بڑی عزت ، احترام اور قانون کی پاسبانی کے ساتھ زندگی گزارتا ہے مگر جب بات  پاکستانی کمیونیٹی کی آتی ہے تو یہ پھر اسی طرح  کا رویہ اپناتا ہے جسے یہ آج بھی پاکستان میں ہی ہے۔

 یوں تو یہ عام آدمی صدیوں سے ہندوستان میں آباد  تھا مگرا سِ کا دوربارہ جنم  1947 میں ہوا جب اسِ نے اپنے آپ کو پاکستانی کہا اور اپنی سر زمین کو پاکستان کہا یعنی پاک زمین۔اسِ عام آدمی نے اپنے آپ کو پاکستانی کہا یعنی پاک زمین کا شہری۔ اسِ عام آدمی نے اسِ پاک سر زمین  کے معماروں اور قائد سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسِ پاک سر زمین کو عالم اسلام کا قلعہ بنائیں گے جہاں دنیا کے ہر مسلمان کو تحفظ دیا جائے گا۔ اسِ کو  مملکتِ  خداداد کہا جائے گا اور جس کو دنیا  کے لئے ایک نمونہ ریاست بنائیں گے ،  جہاں عام و خاص شہری میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ یہاں ہر زبان، نسل، اور فرقہ کے لوگوں میں کوئی  تفریق نہیں  ہوگی ۔جس میں  مذہبی آزادی ہوگی ،  اسلام کے ذریں اُصولوں کے مطابق ایسی ریاست قائم کی جائے گی کہ جس کو دیکھ کر دوسرے ممالک کے لوگ بھی اپنے حاکموں سے کہیں گے کہ ہمیں بھی پاکستان جیسی ریاست چاہیئے۔

  پھر اسِ عام آدمی کو کیا ہوا؟ کیوں یہ عام آدمی خاموش تماشائی بنا رہا اور پاکستان دو لخت ہوگیا۔ کیوں اسِ عام آدمی نے انُ لوگوں کا محاسبہ نہ کیا اور ان کو سزا عام نہ دی جو اسِ عام آدمی کے پاکستان کو دو ٹکڑے کرنے میں شریک جرم تھے۔ اور  کیوں یہ عام آدمی جب سے یہ آدھا پاکستان قائم ہے  خاموش تماشائی ہے اور مزید لٹنے کے انتظار میں ہے؟ کیا یہ عام آدمی اسِ سارے واقعات و حالات سے خوش ہے ؟ کیا یہ عام آدمی اسِ  آدھے ملک کے مستقبل سے   مطمئین  ہے؟ کیا  اسِ  عام آدمی کو اپنے حاکموں  پر ناز کرتا ہے؟ کیا اسِ آدمی کی عزت ،  جان و مال محفوظ ہے؟

اسِ عام   آدمی کے رویہ سے لگتا یوں ہے کہ یہ  اپنے حالات  و واقعات سے مطمئین ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر انِ ہی  عام آدمیوں میں کیوں چند لوگ  ایسے بھی ہیں جو پاکستان کے مستقبل سے خوف زدہ ہیں۔ کیوں یہ چند لوگ اپنی راتیں کالی کرکے باقی لوگوں کو جگانے  کی  کوششیں کرتےہیں؟ کیوں یہ چند لوگ آج بھی   باقی لوگوں کو  چیخ چیخ کر بتانے کو کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو اسُ دن کے انتظار میں مت سوئے رہو جب تمہیں کوئی اٹھانے والا بھی نہ ہوگا۔