:سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیا:
کئی ہفتوں سے پاکستان میں ہورہے سیاسی شور شراپے، پکڑ دھکڑ، سیاسی ہولڑبازیاں ، سیاسی لیڈران کی منافقانہ رویہ ، فوجیوں کے بڑے دعوی اور قومی دولت کے لٹُیرے پہنچ سے دور، میڈیا کے نشریاتی ڈرامے اور عوام کا وہی روائتی رونا دھونا اور پھر انہیں لیڈران کے پیچھے بھاگنا جنہوں نے انہیں صرف نعروں اور وعدوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے لیکر فوجیوں کی کراچی میں کاروائیوں تک ایک بس کچھ ٹھیک ہونے کے دعوے مگر پاکستان کی سالمیت اسُ بیمار مریض کی طرح ہے جسے دلاسے تو بہت دئیے جارہے ہیں مگر اُسکے مرض کے صحح علاج کی دوا

ذرا غور سے تصوریر میں دیکھئے اور سوچئے انکی آپس میں کیا رفاقتیں ہیں

ذرا غور سے تصوریر میں دیکھئے اور سوچئے انکی آپس میں کیا رفاقتیں ہیں

نہیں دی جارہی۔ تبدیلی کچھ نہیں ، اخلاقی اور معاشی تباہی بتدریج عبرتناک اسٹیج پر۔
2013 کے عام انتخابات ہوں، یا اسکے بعد مختلف ذِمنی انتخابات اور پھر اب مرحلہ وار صوبوں میں بلدیاتی انتخابات، سوائے چند مستثنیات کے تما م نتائج ایک ہی حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں کہ پاکستان کی عوام نے اسِ نظام کو اپنے دل سے لگا لیا ہے جسِ میں شخصیت پرستی ہے، فرقہ واریت ہے، صوبائیت ہے، لسانیت ہے غرض کہہ سب کچھ ہے مگر پاکستانیت اور نظر یہ پاکستان نہیں، ورنہ پنجاب میں نواز شریف کو کامیابی اور سندھ میں زلت دیکھنے کو نہ ملتی ، سندھ کے دہی علاقوں میں زرداری کی پیپلز پارٹی کی تاریخی فتح اور پنجاب میں بدترین شکست نہ ہوتی، اور متحدہ قومی مومنٹ کے خلاف ہر قسم کی ملک دشمن کہانیاں منظر عام پر آنے کے بعد بھی ایک مرتبہ پھر زبان اور نسل کی بنیادد پر ایم کیو ایم کو ووٹ نہ ملتے۔ ثابت یہ ہوا کہ پاکستانی عوام کے نزدیک قومی معاملات اور انکے تحفظات سے زیادہ انکے اپنی علاقے، زبان، نسل ، برادری اور فرقہ کے معاملات زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ آج پاکستان میں کوئی بھی جماعت ایسی نہیں جس کے چاہنے والے پورے پاکستان میں یکساں ہوں۔ پھر بھی جو جماعتیں میدان میں ہیں انکے لیڈران اپنے آپ کو قومی لیڈر فخر سے کہتے ہیں اور انکے پیروکار اُس پر لبیک کہتے ہیں۔
جیسے روح ویسے فرشتہ۔ بلدیاتی انتخابات کے دوران جس قسم کی بد انتظامی، ہولڑ بازی، اصلحہ کی نمائش ، ماردھاڑ ، قتل اور ہر طرح کی الیکشن ضابطہ کی دھجگیاں اڑائی گئیں اور اس کے بعد جس ہٹ دھرمی سے الیکشن کمیشن کی طرف سے یہ بیان داغا گیا کہ الحمداللہ بلدیاتی الیکشن کامیابی سے مکمل کر لئے گئے لگ اب یوں رہا ہے کہ شاید اب پاکستان میں اسی قسم کا عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی راج کریگی اور یہ عوام اسی طرح گروہ در گروہ تقسیم ہوتے رہیں گے۔ لیکن رونا کس لئے پاکستان کے عوام اسی قسم کے نظام کو جمہوریت سمجھتے ہیں ۔
عمران خان نے بڑے جوش و جذبہ سے پاکستان میں تبدیلی کا نعرہ لگایا اور یوں لگا کہ عمران خان دنیا کرکٹ کی طرح پاکستان میں بھی تبدیلی لیکر آئیں گے اور عوام کو اسِ فرسودہ نظام سے نجات دلائیں گے، مگر بدقسمتی سے عمران خان کی پہنچ ریحام خان اور الیکشن میں دھاندلی سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ جو تبدیلی پاکستان کو چاہیئے اسُ کے لئے انقلابی اور دو ٹوک فیصلہ ہوتےہیں ۔ پاکستان کے نوجون اسلام آباد کے ڈی چوک پر عمران خان کے ایک حکم کا انتظار ہی کرتے رہ گئے ، مگر عمران خان شاید کسی اور ہی ڈگر پر نکل چکے تھے اب تبدیلی انکی جماعت تحریک انصاف کا اسی طرح کا صرف نعرہ بن کر رہ جائے جس طرح کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کو روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ دیا تھا۔ آج پیپلز پارٹی کے جیالوں کے پاس حق و حلال کی روٹی کپڑا اور مکان کے علاہ سب کچھ ہے۔
لگ یوں رہا ہے کہ فلم ایک مرتبہ پھر کرداروں کی تبدیلی کے ساتھ دوبارہ چلائی جارہی ہے۔آصف علی زرداری کے دور میں پاکستانی میڈیا اور عوام سابق چیف جسٹس چودھری افتخار کے گنُ گاتے تھے، چودھری افتخار صاحب ہر دوسرے دنِ کسی بھی چیز پر سو موٹو لیتے تھے وہ خبر میڈیا کی بریکنگ نیوز بنتی تھی اور عوام بڑی گرم جوشی سے چودھری افتخار کے گیت گاتی تھی کہ بس اب پاکستان کن کو چودھری افتخار ٹھیک کریگا۔ وہ چودھری افتخار اور اسکا بیٹا آج اربوں روپےکے اثاثوں کے مالک ہیں، کروڑوں کےمحلوں میں رہتے ہیں، کہاں گئے وہ مقدمات اور کیا ہوا ان لوگوں کا جن کے خلاف مقدما ت قائم کئے گئےتھے۔ آج آصف زرداری دوبئی اور انگلینڈ میں آرام و سکون سے بیٹھ سندھ میں اپنے حکم سے حکومت چلا رہا ہے جو جنرل راحیل شریف کو نظر نہیں آرہا۔ لگ یوں رہا ہے کہ آج نواز شریف کے دور میں ایک مرتبہ پھر عوام کے ردعمل کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے وہ فلم دوبارہ چلائی جا رہی ہے جس کے ہیرہ چودھری افتخار تھے مگر آج کی فلم کے ہیرو چودھری افتخار نہیں جنرل راحیل شریف ہیں، اور اسِ فلم کا کریکٹر رول آصف علی زرداری نہیں نواز شریف ہیں۔
میں نے خود اپنے مضامین میں فوج ، راحیل شریف اور رینجرز کے آپریشن کو سراہتا رہا ہوں کیونکہ کراچی کے حالات میں بدلائو آیا تھا مگر اب لگ یوں رہا ہے کہ فوج کے ذریعہ عوام کے ردعمل کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے اور قومی دولت لوٹنے والوں کو این آر او جیسا سیف ہیون دینے کے لئے یہ سب کھیل تماشاہو رہا ہے۔
بارحال اسِ میں نئی کو ن سی بات ہے، پاکستان میں فوج گیم چینجر رہی ہے۔ اب فوج نے گیم کب تک کسِ کے ہاتھ میں رکھنا ہے ، گیم سے کسِ کو باہر کرنا ہے اور گیم میں کس کو لانا ہے اور کسِ کو فاتح قرار دینا ہے یہ کسی کو پتہ ہو نہ ہوں فوج کو ضرور معلوم ہے ۔
سندھ میں رینجرس کاآپریشن جاری ہے۔ اسِ آپریشن کے عمل میں ہر دوسرے روز ایک بریکنگ نیوز ایس پی آر سے ریلیز کی جاتی ہے جس میں اعلان کیا جاتا ہے کہ فلاں ٹارگیٹ کلر کو گرفتار کر لیا گیا، فلاں اعلی شخصیت کو حراست میں لے لیا گیا، فلاں دہشتگردوں کو پکڑ لیا گیا۔ مگر شاید ہی کوئی ایک خبر سننے کو ملی ہو کہ جس اعلی شخصیت کو گرفتار کیا گیا تھا اس کو عدالت میں لے جایا گیا ، اس پر فرد جرم عائد کیا گیا اور عدالت نے فوری فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو سزا سنا دی اور اب وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے۔ آج تک صرف ایک آدمی کو پھانسی پر لٹکایا گیا جو تھا صولت مرزا ، جس کے پاس بہت سارے راز تھے جو اب اس کی موت کے ساتھ دفن ہوگئے ، صولت مرزا کی پھانسی سے کسِ کو پھانسی کے پھندے سےبچایا گیا ذی شعور آدمی ذرا حالات و واقعات کا جائزہ لے تو سب سمجھ میں آجائے گا۔
کل تک ایم کیو ایم نواز شریف کے خلاف تھی اسمبلیوں سے استعفے دئیے پھر اچانک سب کچھ ٹھیک ہوگیا استعفی واپس ہوگئے بلدیاتی انتخاب میں حصہ بھی لے لیا ، اور ایک مرتبہ پھر مہاجروں اور الگ صوبہ کا نعرہ بھی یاد آگیا اور پھر لوگوں نے ووٹ دیکر جیت ایم کیو ایم کی جھولی میں ڈال دی۔ اسیِ طرح بلاول بھٹو لاڑکانہ میں وہی پرانا بھٹو زندہ ہے کہ نعرہ لگاتے لوگوں سے ہمدردیاں بٹورتے نظر آئے اور لوگوں نے بھی وہی بھٹو زندہ ہے پر پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ۔ ذوالفقار مرزا جس نے آصف علی زرداری کے دور حکومت میں لاکھوں اصلحہ کے لائسنس اپنے لوگوں میں بانٹے جو شروع سے ہی آصف علی زرداری کے ہر اچھے برے فعل میں شریک کار تھا آج آصف علی زرداری کو گالیاں دیکر اپنے علاقے کے لوگوں سے کسِ شان سے ووٹ لینے میں کامیاب ہوگیا۔ ذوالفقارمرزا اور اسکے ساتھیوں کے اصلحہ کی نمائش کسی فوجی افسر کو نظر نہیں آئی اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو۔
پاکستان کے نئے چیف جسٹس جسٹس ظہیر الدین جمالی صاحب نے جب اپنے عہدہ کا حلف اٹھایا تو اس کے بعد میں نے ایک کھلا خط اپنے مضمون کے ذریعہ شائع کیا اور ای میل کے ذریعہ ان تک پہنچایا جس میں چیف جسٹس صاحب سے گزارش کی کہ اللہ کے واسطے پاکستان سے یہ غیر اسلامی اور متعصبانہ کوٹہ سسٹم اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ختم کریں مگر جواب تو دور کی بات موصوف کو سینٹ میں سینٹ کے چئیر میں رضا ربانی صاحب نے مدعو کیا، یہ وہی رضا ربانی صاحب ہیں جو سینٹ میں بیٹھ کر پاکستان میں عدل و انصاف کا قیام ، شفاف جمہوریت اور کرپشن کے خاتمہ کی بات کرتے ہیں مگر ساتھ ساتھ آصف علی زرداری کی سیاسی قربانیوں کے قصیدے گاتے پھرتےہیں، انِ موصوف کو بالکل نظر نہیں آتا کہ آصف علی زرداری نے پاکستان کی قومی دولت کا کوئی پیسہ کھایا ہے اواور یہ اربوں کے اثاثہ زرداری اور انکی ہمشیرہ نے بس لاٹری کے ذریعہ بنا لئے۔
لحاظہ اب پاکستان کی عدالت ہو،فوج ہو، یا یہ سیاسی مداری اور انکی سیاسی جماعتیں اگر عوام ان میں مست ہیں اور سمجھتے ہیں کہ عوام ان لوگوں کے پیچھے چل کر اپنے ابا و اجداد کے بنائے ہوئے پاکستان کے ساتھ بھلائی کر رہے پھر شاید قصور میرے جیسے لکھنے والوں کا ہے شاید ہمارے دے دماغ میں ہی کچھ فتور ہو۔