دہشتگری کے بازار میں ثقافت کی رنگینیوں کا بھوت

بقلم سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیا

جس شہر میں روزانہ بیس سے تیس لوگ  دہشتگردی میں مارے جا رہے ہوں، جہاں نا  قانون نافظ کرنے والے اہل کار محفوظ ہوں ، نا علما، نا صحافی اور دانشور اور نا استاد وہاں میلے یا فیسٹیول کی بات کرنا انُ لوگوں کے زخموں پر نمک چھڑکنا نہیں تو اور کیا ہے  جن کے پیاروں کو بغیر کسی قصور کے موت کے گھاٹ اتار ا جارہا ہے۔

“اپنی ثقافت پہ ناز کرو، پاکستان سے پیار کرو” یہ کہنا ہے پاکستان پیپلز پارٹی کے نومولود چئرمین بلاول بھٹو زرداری کا، سندھ فیسٹیول  کی  مقبولیت  کے لئے نشر کئے جارہے ویوڈیو اشتہار میں۔ کیا اچھا ہوتا اگر نوجوان بلاول زرداری پاکستان کی یکجہتی کے لئے کوئی فیسٹیول کا انعقاد کرتے اور اس کی  مقبولیت   کے لئے   یہ کلمات فرماتے۔جو خود مغربی معاشرہ کی  پرورش کی پیداور ہوں، جو سندھ کی شاہراہوں پر بغیر محافظ کے چل پھر نہیں سکتے ہوں اور  جن کو خود سندھ کی زبان، تہذیت و تمدن کا پتہ نہ ہوں وہ آج سندھ کی  ثقافت  کے فروغ کی بات کر رہے ہیں یہ سندھ کے لوگوں کے ساتھ مزاق اور سندھ کی ثقافت کی توہین نہیں تو کیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سیاست کا بیڑا اٹھایا تھا اور صحح جمہوریت ملک میں نافظ کرنے کا وعدہ کیا تھا، پچھلے 50 سالوں میں نا تو ملک میں صاف ستھری سیاست کر سکے اور نا ہی شفاف جہوریت نافظ کر سکے اور چلے ہیں سندھ کی ثقافت کو فروغ دینے۔آخر پاکستانی قوم سے یہ مزاق کب تک جاری رہے گا؟  

ایک طرف تو سندھ  کا دارالخلافہ اور پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی دہشتگردوں کے ہاتھوں قتل گاہ بنا ہوا ہے۔ طالبان نے کراچی کو دہشتگردی کا فیسٹول بنادیا ہے دوسری طرف بلاول زرداری کو اِسی شہر میں سندھ فیسٹیول کا رنگا رنگ پروگرام سجانے کا جنون ہے۔ ہاں سمجھا جا سکتا ہے کہ بلاول کی عمر اُنکو اسِ قسم کی رنگینیوں کے لئے اکُساسکتی ہے کیونکہ موجودہ حالات میں اسِ طرح کی  رنگین محفلیں، ثقافتی ناچ گانا اور فن کا مظاہرہ کا انعقاد  دلِ کو لبھانے کا ساز و سامان  تو ہو کستا ہے مگر اس کی بحالی یا فروغ میں کوئی کردار ادا نہیں سکتا، یہ  چیزیں  ایک خوشحال اور پر سکوں معاشرہ  کی صحتمند سرگرمیاں ہوتی ہیں ،اور پھر ثقافت کسی سیاسی نعرہ یا حکمتی عملی سے فروغ نہیں  پایا کرتی ۔ یہ تو معاشرہ کے مسلسل  رہن سہن اور سماجی  ضروریات سے جنم لی لیتی ہیں، پھر  اور وقت  اور حالات کے ساتھ اسِ میں تبدیلیاں اور تغیر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔  پھر سوال یہ ہے کہہ بلاول زرداری صاحب  سندھ کی کسِ ثقافت کی بات کر رہے ہیں کیونکہ  یہ  اپٌنے والد محترم  آصف علی زرداری کی طرف سے تو یہ بلوچ ہیں اور اپنی   ماں بے نظیر  ماں کی طرف سے ملاِ جلا معاملہ ہے کچھ سندھ، کچھ پنجاب اور کچھ ایران شامل ہے۔ تبدیلی، فروغ یا بحالی سب سے پہلے گھر سے شروع ہوتی ہے ، کیا بلاول زرداری سمیت بھٹو خاندان کا کوئی بھی فرد یہ بتا سکتا ہے  انہوں نےسندھ کی زبان، لباس، تاریخ اور ثقافت کو کتنا اپنایا ہے۔ بلاول زرداری صاحب کو چائیے کہ پہلے سندھ کی ثقافت اپنے آپ پر نافظ کریں؟

سندھ دھرتی  نے سر زمینِ  عرب  سے آئے  محمد بنِ قاسم سے لیکر  ترکی، افغانستان، کردستان،  بلوچستان، سرحد،  پنجاب اور خطہ کےمختلف علاقوں سے آئے لوگوں کو  اپنے اندر بسایا۔ کلہوڑا، آفندی، سومرو، بھٹو، تالپور، زرداری، مغل، مرزا، قریشی سب مختلف دور میں سندھ میں مختلف جگہوں سے آئے اور سندھ کی  تغیر پذیر ثقافت کا حصہ بنے۔ پچھلے ساٹھ سالوں میں سندھ کی  ثقافت میں ایک  بڑا تغیر آیا ہے۔ پاکستان کے بعد سے سندھ کی ثقافت بہت زیادہ کثیرالثافت ہو چکی ہے۔ یہاں پاکستان کی ہر زبان بولنے والا بستا ہے۔ سندھی اور اردو زبان بولنے والوں کی اپنی اپنی ثقافت ہیں۔ لحاظہ سب سے پہلے تو سندھ  اور سندھ کی عوام  کو  امن   اور تحفظ  کی ضرورت ہے ۔ پھر سندھ میں  کثیر الثقافت پروگرام منعقد کرنے کی ضرورت ہے  نا کہ ایک مخصوص کمیونٹی کو ٹارگیٹ کرکے مزید  سیاست کرنے کی۔   میلے  یا فیسٹیول ایک خوشحال معاشرہ کی سرگرمیاں ہوتی ہیں کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا نہیں ہوتے۔

کیا پاکستان، سندھ اور بالخصوص کراچی  میں ایسے حالات ہیں کہ یہاں ثقافت کے فروغ کے لئے محلفیں سجائیں جائیں۔ کراچی میں تو لوگ شام ہونے سے پہلے اپنے گھروں کو  خیریت سے  پہنچنے کی فکر کرتے ہیں، تاکہ کہیں کسی دہشگردی کا شکار نہ ہو جائیں۔ کیا سندھ کی عوام کو یہاں پر حکومت کرنے والوں نے ذہنی طور پر اسِ قابل چھوڑا ہے  وہ  ثقافتی پروگراموں  منعقد کریں یا اسِ میں شریک ہوں۔ ثقافت کسی کے کہنے یا ایک دو فیسٹیول کرانے سے فروغ نہیں  پاتی ۔ ایک  پرُ سکون اور خوشحال  معاشرہ میں یہ خود بخود فروغ پاتی ہے۔  ایک زمانہ  تھا جب کراچی سمیت سندھ کے ہر شہر میں بڑے بڑے ادبی، ثقافتی  پروگرام، مشاعرے ، اور رنگا رنگ تقاریب ہوا منعقد ہوا کری تھی۔کراچی اور حیدرآباد میں تھیٹر چلا کرتے تھے، جن کے ذریعہ سے پاکستان میں بڑے بڑے فنکار پیدا ہوئے جنہوں نے پاکستان کے فنون لطیفہ کو ساری دنیا میں اعلی مقام بخشا۔ آج نہ وہ پروگرام ہیں اور نا وہ فنکار۔

سوال یہ ہے کہ اور  بلاول زرداری کوآخر  صرف سندھ فیسٹیول کا خیال ہی کیوں آیا؟ کیونکہ سندھ سے بڑا صوبہ تو پنجاب ہے اور پنجاب کی ثقافت کا  اثر تو پورے پاکستان پر ہے۔ اسی طرح سے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ بھی صوبے ہیں جو اپنی تاریخ، ثقافت ، تہذیب و تمدن رکھتے ہیں۔ بلاول زرداری نے پنجاب  فیسٹیول کا اعلان کیوں نہیں کیا۔ جبکہ  پیپلز پارٹی تو ہمیشہ وفاق کی جماعت اور وفاق کی علامت کا دعوی کرتی ہے۔ پھر یہ حقائق بھی سامنے آنے چاہییں کہ اسِ سندھ فیسٹیول پر کتنے پیسہ خرچ کئے جارہے ہیں اور یہ پیسہ  کہاں سے خرچ ہوگا۔ اگر یہ حکومت سندھ کے خزانے سے خرچ ہوگا تو بلاول زرداری یہ کسِ طرح خرچ کر سکتے ہیں کیونکہ  نہ تو بلاول   پالیمانی  نمائندے  ہیں اور نہ ہی انکی  حکومت میں کوئی حیثیت ہے۔ اسِ سلسلے میں  قومی احتساب کے ادارہ کو فوری طور پر تفتیش کرنی چائیے۔

دراصل یہ  بلاول زرداری اور انکے پیچھے ہدایتکاروں کے صرف صرف ڈرامے ہیں تاکہ لوگوں کی  توجہ اصل مسائل سے ہٹھائی جاسکے اور کسی نہ کسی طرح  سےاپنی گرتی کوئی ساکھ کو سہارا دیا جا سکے ۔ ورنہ زمینی حقائق اور سیاسی تاریخ اسِ کے بر عکس ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا تعلق صوبہ سندھ سے رہا ہے مگر  ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر آصف علی زرداری  نے  مرکز میں حکومت  کرنے  کے لئے سندھ کا کارڈ استعمال کرکے پنجاب کا سہارا لیا۔  1970 میں  جب پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیا تو پاکستان کے دو حصہ تھے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو پاکستان کی اکائی  اور اتحاد کی الم بردار کہنے والے  پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے کبھی کوشش نہیں کی کہ وہ پیپلز پارٹی  کو مشرقی پاکستان میں متعارف کراتے ، وہاں کے مقامی بنگالیوں کو پی پی پی میں شامل کرتے  اور مشرقی اور مغربی پاکستان کے اتحاد کے لئے کام کرتے۔ پھر 1971 میں مشرقی پاکستان علیحدہ ہونے کے بعدپی پی پی کو صوبہ پنجاب نے ایک بڑی پارٹی بنانے میں  کلیدی کردار ادا کیا مگر بھٹو خاندان نے پی پی پی کو  بھٹو فیملی  کی جماعت بناکر چلایا اور پی پی پی کا ہیڈ کوارٹر  اسلام آباد، لاہور یا کراچی کے بجائے اپنے خاندانی شہر لاڑکانہ کو بنایا۔یہی وجہ ہے کہ آصف علی زرداری جن کا تعلق  بھٹو خاندان سے نہیں ،  اپنے بیٹے بلاول کو بھٹو کہلوانے پر مجبور ہو گئے تاکہ بلاول کو پی پی پی  کی موروثی سیاسی  گدی  نشینی مل سکے۔ لحاظہ اگر آج بلاول زرداری مرسوں مرسوں سندھ نہ دیسوں کے نعرہ لگاتا ہے اور پھر ساتھ  ہی  مصلحتاً پاکستان زندہ باد کا نعرہ بھی لگاتا ہے تو یہ  اسکے نانا  ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی  حکمتِ عملی تھی کہ پاکستان کا نام استعمال کرکے سندھ کے نام پر اپنی سیاسی اہمیت اور طاقت کو پاکستان کی ایسٹبلشمنٹ  سے منوائو اور اقتدار حاصل کرو۔ انِ ہی حرکتوں کی وجہ سے پاکستان پیپلز پارٹی بتدریج  سکڑتی جا رہی ہے اور اب حکومت کا دائرہ صرف سندھ تک رہ گیا ہے جہاں اب اور بھی اسٹیک ہولڈرز  سیاسی وقت بن چکے ہیں۔

بلاول زرداری ابھی نوجوان ہیں انِ کو چائیے کہ اپنے بڑوں کی غلطیوں سے سبق سیکھیں نہ کے ان کے پیروکار بنیں ورنہ انجام بھی اپھر انہیں کے جیسا ہوگا۔ سندھ فیسٹیول یا سندھ کے نعرے لگانے سے نا تو سندھ کے حالات اچھے ہونگے اور نا ہی پاکستان کے۔ دوسرے یہ کہ اب دور بدل گیا ہے ۔ یہ 70، 80 یا 90 کی دھائی کی سیاست نہیں اور ہی اس وقت کے سیاسی کارڈ اب چلیں گے۔ آج کراچی سے لیکر پیشاور تک لوگ اسِ طرح کے سیاسی  حربےاچھی طرح سمجھتے ہیں۔ بلاول زرداری کے لئے اچھا ہوگا کہ اگر انہوں نے ایک کامیاب اور سچے سیدسیاسی لیڈر کی حیثیت قوم سے منوانی ہے تو کھلے ذہن سے کام کریں ۔ پاکستان کے تمام طبقوں ، صوبوں ، شہروں اور دہی علاقوں کو برابر کی اہمیت دیں۔ بحیثیت چئرمین پاکستان پیپلز پارٹی، اپنی جماعت  کی از سرِ نو تعمیر کریں، قابل سچے اور صحح لوگوں کو میرٹ پر آگے لیکرآئیں۔ پی پی پی سے کرپشن کی مہر کو صافت کریں۔  ورنہ پاکستان سے سمٹ کر پی پی پی سندھ کی جماعت رہ گئی ہے اگر اسیِ طرح کی حرکتیں رہیں تو اگلے الیکشن تک وہ لوگ بھی ووٹ نہیں دی جو آپ کی زمینوں پر کام کرتے ہیں۔

Recommended For You

About the Author: Tribune