کچھ بھی تو نہیں بد لا ۔۔۔ پھر حالتِ زار پر رونا آیا

سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیاء

یوں تو بدقسمتی سے ہر روز ہی کوئی نہ کوئی ایسی خبر پاکستان سے ملِ رہی ہوتی ہے جس سے پاکستان کے استحکام کو ایک اور دھچکا لگتا نظر آتا ہے مگر پاکستان سے ہزاروں میل دور یہاں آسٹریلیاء میں 15 اور 16 مارچ (2011) کی درمیانی شب جب میں بیٹھ کر اپنے ذہن کی کیفیت اور رائے کو قلم بند کر رہا ہوں تو اچانک پاکستان کے ایک ٹیلی ویزن پر بریکنگ نیوز بھی دیکھ رہا ہوں جس کے مطابق سرے عام پاکستانی نوجوانوں کو لاہور کی مصروف شاہراہ پر قتل کرنے والے امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا گیا اور اب وہ شاید پاکستان کی سرحدوں کو بھی پار کر چکا ہو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کون سی پاکستان کی سا لمیت کی دعویدار سیاسی یا مذہبی جماعت اس پر آواز اٹھاتی ہے۔ کیا اب بھی پاکستانی قوم پاکستان کی اسِ شرمناک بے عزتی پر بے حسی دکھائے گی اور ہمیشہ کی طرح چند روز میں پاکستان کے ساتھ کیے گئے اسِ ظلم و زیاد تی کو بھول جائے گی ؟
پاکستانی قوم آج ہر طرح کے بھوران کا شکار ہے۔ ملک میں نہ تو ٹر ین وقت پر چلتی ہے، نہ جہاز وقت پر پرواز کرتاہے، نہ ہی سڑکوں پر بلا خوف و خطر سفر کیا جا سکتا ہے، نہ لوگوں کے پاس روز گار ہے اور نہ ہی عوام کے پاس بجلی، پانی اور تین وقت کے لئے کھانا ۔ مگر ہر سیاسی مداری کے جلسے میں لوگوں کی شرکت میں کوئی کمی نظر نہیں آ تی ۔چاہے جلسہ زرداری کا ہو، جیلانی کاہو، شریف برادران کا ہو،یا کسی مولانا کا، الطاف حسین کا ٹیلیفونک خطاب ہو یا پھر عمران خان کا عوامی خطاب ہر ایک جلسہ میں لوگ جھنڈے لہراتے اور نعرہ لگاتے نظر آتے ہیں۔ دوسری جانب حکومت اور حزبِ اختلاف کے لیڈران کے پاکستان کی عدالتوں کو اپنے مسائل میں الجھا رکھا ہے۔ ملک کے سب سے بڑے عہدہ یعنی صدارت کی کرسی پر بیٹھا آدمی کے سوئیزر لینڈ کے اکاؤنٹ میں ساٹھ کروڑ ڈالر رکھے بیٹھا ہے اوراسکا وزری اعظم اس کی رقم کا محافظ بنا بیٹھا ہے۔ عدالتِ عظمی کے فیصلوں کو یکے بعد دیگرے پامال کیا جارہا ہے۔ قومی خزانے سے کروڑوں روپے حکومی کے وکیلوں پر ان مقدمات پر خرچ کئے جا رہے ہیں جن کا تعلق عوام یا پاکستان کے مسائل سے بالکل نہیں۔
بد نصیبی کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔جنہوں نے فرنگیوں اور آمروں کی گود سے جنم لیا، جن لوگوں نے بے دردی سے قومی دولت کو لوٹا آج وہ لوگ اور ان کی نسل کو قائد عوام ، شہید اور جمہوریت کے علمبردار جیسے القاب سے نوازہ جاتا ہے ۔ قوم کی جہالت کا یہ حال ہے کہ پڑھے لکھے لوگ ایک سے زیادہ سمِ والے موبائلوں پر تو گھنٹوں چینٹگ کرکے ، غیر مہذب ویڈیوز دیکھ کر، بے ہودہ لطیفے ایک دوسرے کو موبائلوں پر بھیج کر اور آن لائن شوشل نیٹ ورکس پر فضول کا بحث و مباحثہ کرکے وقت برباد کر نے میں لگے ہیں ۔جس ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے مہذب معاشرہ میں لوگ اپنا معیار تعلیم بڑھارہے ہیں ،اعلی ایجادات کر رہے ہیں، بیرونی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں اور قومیں معاشی انقلاب برپا کر رہی ہیں اسی ٹیکنالوجی سے آج پاکستان کی نئی نسل ذہنی بیماریوں، معاشرتی خرافات اور برائیوں کا شکار ہے ۔آج ہمارے سامنے ایک عام آدمی سے لیکر ذمے دار عہدہ پر بیٹھا افسر بھی شورٹ کٹ مارنے کے چکر میں بے اصولی زندگی گزار رہا ہے۔غرض کہہ پاکستانی قوم کا یہ حال ہے کہ اب اگر کرپشن اور مسائل کی بات کی جائے تو شوچنا پرتا ہے بات کہاں سے شروع کی جائے اور کیا کیا بیان کیا جائے۔ اچھائیاں ڈھونڈے سے نہیں ملتیں۔ ہمارے سامنے ویتنام، انڈونیشیا، تائیوان اور بنگلادیش جیسے ممالک کی مثال موجود ہیں جو کچھ عرصے پہلے تک پاکستان سے ترقی کے ہر میدان میں بہت پیچھے تھے۔
جب کسی قوم کا حافظہ کمزور ہو تو وہ بار بار فریب کا شکار ہو تی ہے۔ پاکستانی قوم کا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔ نصف صدی سے پاکستان میں کچھ بھی تو نہیں بدلہ ۔وہی سیاسی بازیگری وہی سیاسی ڈرا مہ ۔ وہی سیاسی بازیگروں کا آمروں کے ہاتھوں سے نکل کر جمہوریت کا پرچم اٹھانا اور پھر ناکامیوں سے فرار کے لئے آمروں کے دروازے پر دستک دینا۔ پھر وہی پاکستانی قوم کی بے حسی اور پھر وہی آمریت کی گود سے جنم لینی والی پاکستان کی بڑی سیاسی پارٹیوں اور انکے رکھوالوں کا ساتھ دیکر یا ان کے کرتوتوں پرخاموش تماشی بن کر پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک مزاق بنا دینا۔
پاکستان کا جنم آل انڈیا مسلم لیگ سے ہو۔ پاکستان بننے کے بعد یہ پاکستان مسلم لیگ بن گئی۔ابھی پاکستان کی پیدائش کو ایک دھائی ہی گزری تھی کہ 1958 میں پاکستان کے جمہوری نظام کو پامال کرکے ملک میں مارشل لاء لگا دیا گیا۔1960 میں اپنی حاکمیت کے لئے نام نہاد ریفرینڈم کروایا بالکل اسی طرح کا ریفرینڈم جو بعد میں ایک اور آمر جرنل ضیاء الحق نے کروایا۔ او ر پھر ایک فوجی آمر فیلڈ مارشل ایوب خان نے فوجی وردی اتارکر جمہوری صدر کا روپ ڈھارنے کے لئے پاکستان مسلم لیگ کی گود سے پاکستان کنوینشن مسلم لیگ کو جنم دیا اور یوں سیاسی بازیگری کا ایک ایسا بیج بویا جو اب ایک تناور درخت ہے۔یہ پاکستان کا پہلا آمر تھا جس نے 1965 میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن اور خاتونِ پاکستان فاطمہ جناح کو ہیرا پھیری سے الیکشن میں شکست دی او ر پاکستان کی سب سے بڑی کرسی پر برسوں قبضہ جمائے رکھا اور اس وقت تک اقتتدار پر قابض رہا جب تک اس کے اپنے پالے ہوئے سیاسی بازیگر اس کے خلاف کھڑے نہ ہو ئے ۔ یہ وہی فاطمہ جناح تھیں جنہوں نے اپنا گھر نہیں بسایا مگر ملک کو بسانے کے لئے اپنے بھائی ، محمد علی جناح، کے شانہ بشانہ پاکستان کی جہدو جہد میں حصہ لیا۔ ایسی شخصیت کے سامنے کھڑے ہونے والے کو تو ویسے ہی عوام کو جوتے مارنا چائیے تھے مگر اسِ نا سمجھ قوم نے ایوب خان کی بنائی ہوئی کنوینشن مسلم لیگ کو لبیک کہا ، فاطمہ جناح کو شکست ہوئی اور پاکستان میں ایک نئے فوجی سیاسی کلچر کو جنم دیا۔
ایوب خان اور اس کی کنوینشن مسلم لیگ کی پیداوار ذوالفقار علی بھٹو جو ایوب خان کو ڈیڈی کہا کرتے تھے نے اپنے استاد سے سیکھے ہوئے ہنر کو انہی پر استعمال کیا اور کنوینشن مسلم لیگ سے پاکستان پیپلز پارٹی کو جنم دیا۔ وہی کنوینشن مسلم لیگ کے موقع پرست سیاسی پنڈت پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بینر تلے پاکستا نی قوم سے روٹی کپڑا اور مکان کا وعدہ کیا۔
پنجاب اور سندھ بالخصوص دہی علاقوں کے چودھریوں اور وڈیروں کی طاقت کے زیر اثر عوام جو آج بھی اکثریت میں ہیں انہیں چودھریوں اور وڈیروں کے کہنے پر ذوالفقار علی بھٹو کے پیچھے چل دیے۔ اس قوم نے یہ نہیں سوچا کہ جس لیڈر کا سیاسی آغاز فوجی آمر کی گود سے ہوا ہے اور جس کی پارٹی میں چودھریوں اور وڈیروں کا راج ہے وہ چاہے اپنی ذات سے کتنا بھی ہوشیار کیوں نہ ہو کسِ طرح سے عوام کو مساوات اور جمہوریت سے نواز سکتا ہے۔ حافظہ کی کمزور قوم ذوالفقار علی بھٹو کے قول ’طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں‘ کے جھانسے میں ایسی آئی کہ اپنی طاقت بھٹو کی جھولی میں ڈال دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو دیئے گئے قول ’طاقت کے سرچشمہ عوام ہیں ‘کے بینر کو اسی قوم کے خلاف استعمال کیا اور مشرقی پاکستان کی عوامی اکثریت کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کی سا لمیت پر وزیر اعظم کی کرسی کو فوقیت دی۔مشرقی پاکستان کی اکثریتی جیتی ہوئی شیخ مجیب الرحمن کی عوامی نیشنل پارٹی جس کی مجموعی پالیمانی نشستیں ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی سے زیادہ تھیں کو اقتتدار دینے انکار کیا۔ اس وقت کے فوجی آمر جرنل یحیی خان نے ذوالفقار علی بھٹو کا ساتھ دیا اور بل آخر مشرقی پاکستان کے عوام نے دیکھتے ہی دیکھتے مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنا دیا۔ اور یوں پاکستان بھی آدھادہ رہ گیا اور پاکستانی قوم بھی آدھی رہ گئی ۔مگر پاکستانی قوم نے پاکستان کے ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے اسِ عظیم سانحہ کو بھلا کر ذوالفقار علی بھٹو کے پیچھے چلنے کو ہی فوقیت دی۔
بھٹو اور اس کے سندھ کے حواریوں اور وڈیروں نے اقتتدار میں آکر وہی کچھ کیا جو وہ آج بھی کر رہے ہیں۔ سند ھ میں زبان اور نسل کے نام پر قوم کو تقسیم کیا۔ سندھ میں دہی اور شہری تقسیم کی گئی،کوٹہ سسٹم سے نفرتوں کو جنم دیا گیا۔ سندھ کے شہری علاقوں کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے ساتھ پلاننگ کے ساتھ تفریق پیدا کی گئی۔آج کی متحدہ قومی مومنٹ اسی انتظامی اور نا انصافیوں کا تحفہ ہے۔ اور اس طرح سندھ میں تفریق کے ایسے کام کئے گئے کہ سند ھ کو ہمیشہ کیلئے زبان اور نسل کے نام پر تقسیم کر دیا گیا۔ادھر پنجاب میں طاقت عوام کی بجائے چودھریوں اور پٹواریوں کے حوالے کی گئی اور کرپشن کا بازار گرم کیا گیا۔ اسی طرح ملک میں نفرتوں اورعقربہ پروری کا بازار گرم کیا گیا ۔
وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا مگر پاکستانی سیاسی بازیگرموقع کی تلاش میں وقت کا انتظار ضرور کرتے ہیں۔ فوجیوں اور سیاسی بازیگروں کی اسِ میچ فسکنگ کو ایک مرتبہ پھر دوہرایا گیا۔ جس طرح بھٹو ایک آمر کی طاقت کا قلہ قمہ کرکے آیا تھا۔ ایک اور آمرفوجی جرنیل ضیاء الحق نے 1977 میں ذوالفقار علی بھٹو کے اقتتدار کو ختم کرکے ملک میں مارشل لاء نافظ کردی اور بھٹو کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا اور 1979 میں کورٹ کے فیصلہ کے تحت قتل کے جرم میں سزا کے عوض تختہ دار پر لٹکا دیا۔ اور پھر خود دس سال تک پاکستانی قوم پر آمرانہ حکومت کی۔یہ وہی فوجی آمر تھا جس کو ذوالفقار علی بھٹو نے فوجیوں کی ممکنہ مداخلت سے بچاؤ کے لئے نیچے سے اٹھا کر چیف آف اسٹاف بنایا تھا۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ ضیاء الحق نے پاکستانی قوم کو اسلام کا نام لیکر بے وقوف بنایا۔ایوب خان کی طرح اپنے اقتتدار کو جاری رکھنے کے لئے ریفرینڈم کروایا۔
دس سال تک امریکہ سے مال کھایا اور اس کے بدلے افغانستان میں دوسروں کی جنگ میں پاکستان کو فریق بنایا۔پاکستان کی قوم اور ملک آج جس ہیبت ناک دہشت گردی کی لپیٹ میں گھرِا ہے اس کا سرا ضیاء الحق کے دس سالہ دور سے جا ملتا ہے۔ مگر پاکستانی قوم پر اسِ کا کیا فرق پڑنا تھا۔ اس کو تو عادت ہے بھولنے کی۔ جس امریکہ کے دس سال گن گائے اسی امریکہ نے ضیاء الحق اور اس کے ساتھی جرنیلوں اور اپنے ہی امریکی سفارتکار کو ایک طیارے کی پر اسرار تباہی کے ذریعے 1988 میں ہلاک کیا گیا۔
وقت آگے بڑھا مگر قوم کی سوچ اور مزاج میں کوئی تبدیلی نہیںآئی۔ قوم پھر سب کچھ بھول چکی تھی ۔ذوالفقار علی بھٹو اور اس کے دور میں ہوئے کارناموں کو قوم نے بھلا کر بے نظیر کے پیچھے چلنا شروع کیا ۔ تاریخ کو ایک مرتبہ پھر دوہرایا گیا ۔ ضیا الحق کے آمرانہ دور سے قوم کو نجات دلانے اور ملک میں جمہوریت کو نافظ کرنے کا نعرہ اسی ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بے نظیر بھٹو نے لگایا جس نے سیاسی اصولوں کو ایک طرف رکھ کر مشرقی پاکستان کے اکثریتی پارٹی عوامی لیگ کو اقتتدار نہ دینے کی ٹھانی اور پاکستان کا دو لخت ہونا تھا۔ مگر قوم نے بڑی بے حسی سے سب کچھ اب بھلا دیا تھا اور ایک مرتبہ پھر وہی نعرہ وہی بینر وہی سیاسی بازیگری کے پیچھے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ تاریخ سے کچھ سبق حاصل کرنے کی بجائے قوم کی اکثریت نے اپنی حمایت بے نظیر بھٹو کی جھولی میں ڈال دی، بے نظیر بھٹو کو مظلوم ٹہرایا گیااور شہید کی بیٹی کے لقب سے نوازہ گیا۔ اور یوں بے نظیر 1988 میں پاکستان کی وزیر اعظم بنی۔ باپ (ذوالفقار علی بھٹو) کے خون کے بدلے کی باتیں کی گئیں۔ بے نظیر کے دور میں اس کے خاوند آصف علی زرداری جو اس وقت پاکستان کے ان داتا بنے ہوئے ہیں نے ملک میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا۔ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں ڈالر کے اثاثے ملک سے باہر بنائے گئے۔ بے نظیر بھٹو کی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگے اور اس کی حکومت صر ف بیس ماہ میں اختتام کو پہنچی مگر بے نظیر اور آصف زرداری ملک سے باہر چلے گئے اور اپنے ساتھ اربوں ڈالر بھی کما کر لے گئے۔ آج بے نظیر اور زرداری کے دبئی سے لیکر، فرانس، انگلینڈ اور امریکہ میں اربوں ڈالر کے اثاثے ہیں۔مگر پاکستانی قوم نے یہ سب کچھ آرام سے ہضم کر لیا۔ فوج نے اسِ مرتبہ خود اقتتدار میں آنے کے بجائے ایک نیا اسکرپٹ تیار کیا۔جرنل ضیاء الحق کی گود سے جنم لینے والے اور ضیاء الحق کے آمرانہ دور میں 1985سے 1990 تک پنجاب کے وزیر اعلی رہنے والے نواز شریف کو آگے لایا گیا۔ پاکستانی قوم جس کو بھولنے کی بیماری ہے ایک مرتبہ پھر ماضی کی حقیقت بھلا کر ایک ایسے شخص (نواز شریف) کی جمہوریت کے نام پر حمایت کی جس کی سیاست کے پہلے پانچ سال فوجیوں کی خدمت کرنے میں گزرے تھے۔ نواز شریف نے جو فوجیوں کی پیداوار تھے جمہوریت اور عوام کی خدمت کے دعوے کئے اور پاکستانی قوم بالخصوص پنجاب نے نواز شریف اینڈ کمپنی کو لبیک کہا۔نواز شریف نے پہلے 1990 میں اور پھر 1993 میں بتدریج وزارتِ عظمی کی کرسی سنبھالی۔ نواز شریف نے اپنے دورِ اقتتدار میں قوم کی تقدیر بنانے کی باتیں کیں ۔ پاکستان کو ایشا کا ٹائیگر بنانے کے دعوے کئے گئے۔ اور یہ پاکستانی قوم ایک مرتبہ پھر ماضی کے تلخیوں ، گمراہیوں اور نقصانات کو بھلا کر اس کے پیچھے لگ گئے۔ نواز شریف کے دور میں پاکستان ایشیا کا ٹائیگر تو نہیں بن سکا مگر نواز شریف اور اسکا خاندان سرمایہ ، ملکیت اور بزنس امپائر بنانے میں دنیا کا ٹائیگر ضرور بن گیا۔ آج پاکستان کے پاس انڈسٹری ہو نہ ہو ، آج پاکستان کے پاس سرمایہ ہو نہ ہومگر نواز شریف اینڈ کمپنی کے پاس یہ سب کچھ ہے۔ اور اب نواز شریف اینڈ کمپنی ایک مرتبہ پھر اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔نواز شریف کے دور میں خزانہ خالی ہو رہا تھا مگر نواز شریف کے کارخانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ملک میں لوٹ مار کا بازار بے نظیر کے مقابلہ میں کچھ کم نہ تھا۔ مگر قوم کی بے حسی جوں کی توں تھی۔بارحال پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے اسکرپٹ کا اب نیا سین شروع ہوا۔ ایک مرتبہ پھر اقتتدار کرپشن کے الزامات کے تحت ختم کیا گیا۔بے نظیر کو اقتتدار سے ہٹے ابھی چند برس ہی گزرے تھے مگر یہ قوم ایک مرتبہ پھر سب کچھ بھول چکی تھی۔ بے نظیر الیکشن جیت کر ایک مرتبہ پھر 1993 میں اقتتدار میں آگئی۔ ہونا تو یہ چائیے تھا کہ بے نظیر ماضی سے کچھ سبق سیکھتیں مگر وہ اسِ مرتبہ لوٹ کھسوٹ میں تجربہ کے ساتھ آئی تھیں۔ ملک میں کرپشن کے بازار کا گراف اور اوپر گیا۔زرداری نے کرپشن کے سب ریکارڈ توڑ دیئے اور دنیا میں مسٹر دس پرسنٹ کے نام سے مشہور ہوئے۔یہ وہ مسٹر دس پرسنٹ ہیں جو آج پاکستان کی باگ دوڑ سنبھالے ہوئے ہیں۔اور اب اپنے دس پرسنٹ کے فارمولے سے سب سیاسی پنڈتوں کو خوش کئے ہوئے ہیں۔ مگر کیا پاکستانی قوم کو یہ سب کچھ یاد ہے۔ نواز شریف اور بے نظیر کا ڈارمہ 1988سے 1998 تک جاری رہا۔ یوں تو یہ جمہوریت کا دس سالہ دور تھا مگر پاکستان کی تاریخ میں سے اگر پچھلے تین سال نکال دیئے جائیں تو یہ پاکستان کی معیشت کے بد ترین دس سالہ دور تھے۔ ملک میں ریکارڈ توڑ بد انتظامی، عقربہ پروری، مفاد پرستی اور کرپشن پھیلی۔نواز شریف کے 1997 سے 1999 دورِ اقتتدار میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ ملک میں نام نہاد جمہوریت کے دس سال ہو چکے تھے اور اب باری تھی فوجیوں کی ۔ وجوہات کے پیچھے جو بھی حقیقت ہو۔ ملک پر ایک مرتبہ پھر ایک اور آمر جرنل پرویز مشرف نے 1999 میں نواز شریف کی حکومت ختم کرکے قبضہ کیا۔ یہ وہی جرنل پرویز مشرف تھے جن کو نواز شریف نیچے سے اٹھا کر اوپر چیف آف آرمی اسٹاف کی کرسی پر لائے تھے تاکہ فوج نواز شریف کے تابع رہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح ذوالفقار علی بھٹو ضیاء الحق کو لیکر آئے تھے۔ نواز شریف خاموشی سے جرنل پرویز مشرف کے ساتھ ڈیل کرکے اپنے صندوقچوں کے ساتھ ملک سے سعودی عرب کوچ کر گئے ۔ اور پھر وہاں اپنے سرمایہ کو بڑھانے میں مصروف ہوگئے ۔سعودی عرب کے شہزادوں سے مختلف طریقوں سے تعلقات استوار کئے ۔ انڈسٹریز لگائیں اور ایک مرتبہ پھر اپنی باری کے لئے وقت کا انتظار کیا۔ پاکستان کی اقتتدار کے اسِ کھیل میں کچھ بھی تو نہیں بدلہ تھاسوائے چند چہرے بدل گئے تھے ۔
1999 میں جرنل پرویز مشرف نے ایک مرتبہ پھر ملک میں ایک نئے قسم کا مارشل لاء نفاذ کیا۔ مگر حالات وہی تھے۔ بڑے بڑے وعدہ عوام اور پاکستان کی تقدیر کو بدلنے کے اور پاکستانی عوام اب مشرف کی باتوں پر اسے لبیک کہ رہی تھی۔ جرنل پرویز مشرف نے اپنے لئے ایک نئے عہدہ کا انتخاب کیااور خود کو ملک کا چیف ایگزیکیوٹیو کہلایا جیسے کہ وہ اب ایک کمپنی کے سربراہ ہوں ۔مشرف نے ایک مرتبہ پھر ضیاء الحق کی تاریخ کو دہرایا۔ امریکہ سے مال حاصل کرنے اور اپنے اقتتدار کی مستحکم کرنے کے لئے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکے ۔ 11ستمبر 2001 کی امریکہ میں دہشتگردی کے بدلے میں امریکہ اور اسکے اتحادیوں کا افغانستان میں فوجی آپریشن میں ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ بدلے میں امریکہ نے مال و اکرام سے نوازہ ۔امریکہ جو دنیا میں جمہوریت کا علمبردار بنتا ہے۔ مشرف کے فوجی دورکی حمایت کی گئی۔ مشرف کو پاکستان کا روشن خیال لیڈر کہا گیا اور مغربی دنیا میں مشرف کے گیت گائے گئے۔اور ہماری قوم بھی اس کے پیچھے چل کھڑی ہوئی۔
تقریباً نو سال کی افغانستان میں امریکہ کی طالبان اور القاعدہ کے خلاف کاروائیوں میں مشرف نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ اگر آج طالبان اور القاعدہ پاکستان میں جگہ جگہ دھماکے کر رہی ہے اور اپنے پیروکار رکھتی ہے تویہ سب اسی امریکی حمایت کا تحفہ ہے۔جنرل پرویز مشرف کا دور 2008 میں ختم ہو ا اور اسی امریکہ کی مرضی سے ختم ہوا جس کے وہ گیت گایا کرتے تھے اور وجہ یہ تھی کہ اب امریکی مائی باپ نے بے نظیر کو لانے کی ٹھان لی تھی ۔بے نظیر اور مشرف کے درمیان خفیہ ڈیل کرائی گئی۔ وہی پرانا کھیل جسے میں فوجی جمہوری کھیل کہتا ہوں ایک مرتبہ پھر شروع ہوا۔ بے نظیر،مشرف اور امریکہ کے بنائے ہوئے پلان پر کام شروع ہوا۔ اور ہماری قوم ماضی کے واقعات سے قطہ نظر نئے نعروں اور سیاسی رنگ بازیوں میں ایک مرتبہ پھر آگئی۔ بے نظیر بھٹو کے اقتتدار میں آنے کی تیاریاں کی گئیں۔ مگر اسِ مرتبہ شاید حصہ داری میں کچھ اور طاقتیں بھی شامل ہو چکی تھیں اور جن کو بے نظیر سوٹ نہیں کر تی تھی۔ لحاظہ بے نظیر کا دسمبر 2007 کو اسرار قتل ایک عوامی اجتماع میں قتل ہوا۔ شاید اقتتدار کا یہ اسکرپٹ اسیِ طرح آقاؤں نے لکھا تھا۔ بے نظیر کی بجائے ان کے خاوند جو مسٹر دس پرسنٹ کے نام سے مشہور تھے بحیثیت صدر پاکستان کے حاکم بن گئے۔
آصف علی زردار ی اینڈ کمپنی کے موجودہ دورِ اقتتدار کے پچھلے تین سال شاید اسِ قوم کو ابھی یاد ہوں کیوں کہ فلم ابھی ختم نہیں ہوئی۔مزے کی بات یہ ہے پہلے تو سلسلہ اس قسم کا تھا کہ ایک مرتبہ باری فوج کی پھر فوج کے پسندیدہ سیاسی بازیگروں کی۔ مگر اب اسکرپٹ بدل دیا گیا ہے۔ اس وقت ایسی نام نہاد جمہور ی و پالیمانی نظام کا ڈھونگ رچایا گیا ہے جس میں کوئی حقیقی حزبِ اختلاف نہیں ہے۔ تمام بڑی پارٹیاں کسی نہ کسی طرح اقتتدار میں شامل ہیں اور اپنے مزے لوٹ رہی ہیں۔ پیپلز پارٹی کی مرکز میں حکومت ہے۔ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کے ساتھ سندھ میں اقتتدار میں شامل ہے اور مرکز میں حمایتی ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی کی صوبہ پختوں خواہ میں حکومت ہے اور مرکز میں شراکت ہے ۔ مسلم لیگ نواز شریف کی پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں حکومت ہے۔ اور فوج ان سب کو پیچھے سے چلا رہی ہے۔ اس وقت اگر جائیزہ لیں تو وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے لیکر نواز شریف اینڈ کمپنی ، ایم کیوایم، سب کبھی نہ کبھی فوجی حکومت کا حصہ رہ چکے ہیں ۔مگر پاکستانی عوام کو اسِ کا کوئی احساس نہیں۔ وہ شخصی سیاست کے پیچھے بھاگنا قطہ نظر اس سے کے آیا یہ ملک و قوم کے فائدہ میں ہے یا نہیں۔
لیکن کیا یہ کھیل پاکستان میں اسی طرح جاری رہے گا اور پاکستانی عوام اسی طرح سب کو برداشت کرے مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کب تک؟ کیا پاکستان مزید اسِ طرح کے فوجی جمہوری کھیل کا متحمل ہو سکتا ہے؟ کیا پاکستان سیاست کے نام پر ملک کا خزانہ لوٹنے والوں کو مزید برداشت کر سکتا ہے؟ آج پاکستان عالمی بینک،آئی ایم ایف اور دوسری بین الاقوامی اداروں کے قرضوں میں دبا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پچھلے تین سال میں پاکستانی حکومت نے اتنا قرضہ لیا ہے جتنا کہ پچھلے ساٹھ برسوں میں نہیں لیا گیا۔ مگر کیا پاکستانی عوام کو اسِ کا احساس ہے۔ اگر ہے تو کسِ چیز کا انتظار ہے؟ مزید بد حالی، بدنامی اور بد انتظامی یہاں تک پاکستان کو بین الاقوامی ادارے بینک کرپٹ اعلان کردیں۔ جو قومیں تاریخ سے سبق نہیں سیکھتیں وہ خود تاریخ بن جاتی ہیں۔ قوم کی پہچان قومی فیصلوں سے ہوتی ہے۔ قومی فیصلے ملک کے مفاد میں لئے جاتے ہیں ناکہ پارٹی یا لیڈران کے مفاد میں ۔
اگر پاکستان کے سیاسی جغرافیہ کو دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ ملک میں کوئی سیاسی پارٹی سیاسی اور جمہوری اصولی سے آراستہ نہیں ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے نام کچھ بھی ہوں ہر سیاسی جماعت کی شناخت شخصی ہے ۔ مثال کے طور پر نواز شریف کی مسلم لیگ، پیر پگاڑہ کی فنکشنل لیگ، شیخ رشید کی مسلم لیگ ، پرویز مشرف کی مسلم لیگ، ولی خان کی عوامی لیگ، بے نظیر کی پیپلز پارٹی، مرتضی بھٹو کی پیپلز پارٹی، الطاف حسین کی ایم کیو ایم۔ شاید ہی کسی پارٹی میں آزادانہ جمہوری انداز سے الیکشن اور لیڈران کا انتخاب ہوتا ہے۔ آج باپ ہے تو کل اس کا بیٹا یا بیٹی۔ آج چودھری ہے تو اس کا بھائی یا بیٹا چودھری ۔ ہر سیاسی پارٹی میں آمرانہ نظام اور شخصیت پرستی ہے۔ ہر سیاسی پارٹی میں ایسے سیاستدان ہیں جو کسی نہ کسی فوجی دورِ حکومت میں اعلی کرسیوں پر بیٹھ چکے ہیں۔ کیا پاکستانی قوم نے کسی سیاسی لیڈر اور اسکی جماعت کے پیچھے چلنے سے پہلے یا ان کو ووٹ دینے سے پہلے انِ چیزوں کا جائیزہ لیا ہے۔ اگر نہیں تو کیا اسِ بات میں کوئی حقیقت نہیں جب یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستانی قوم ابھی تک جمہوریت کے قابل نہیں۔ مہذب ، آزاد اور جمہوری معاشرہ میں اقتتدار کے لئے سیاست جمہور ی نظام میں رہ کر کی جاتی ہے۔ اور خرابی اگر اسِ نظام میں ہی ہو تو وہاں پھر سیاست نہیں ہوتی بلکہ سیاست کی بازیگری اپنے ذاتی مفادات کے لئے ہوتی ہے۔ وہاں سیاست کا نام لیکر ایک ایسے نظام کو پروان چڑھایا جاتا ہے جہاں ذاتی مقاصد کی تکمیل ہو اور جہاں وقتِ ضرورت فرار حاصل کرنے کے راستے ہوں۔

Recommended For You

About the Author: Tribune