:سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیا

آسٹریلیا  میں بسنے والے پاکستانیوں کی تاریخ گواہ ہے  کہ اگر کسی نے سب سے پہلے کشمیر یوں کے لئے ۹۰ کی دھائی میں ایک جامع فورم  ٹریبیون انٹرنیشنل کے بینر تلے منعقد کیا   جس میں نا صرف کشمیری، پاکستانی، بھارتی نمائندوں کو مدعو کیا گیا تھا بلکہ آسٹریلوی سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی  تھی اور جس کی  آواز میڈیا کے ذریعہ پوری دنیا میں بھیجی گئی تھی تو وہ سید عتیق الحسن  اور اسکا ٹریبنون انٹر نیشنل اخبار تھا۔۱۹۹۸ میں سڈنی کے اشفیلڈ کمیونٹ ہال میں ہونے والے اسِ فورم کی شائع ہوئی رپورٹ میرے پاس آج بھی محفوظ ہے۔ پھر اگر کسی لکھاری نے آسٹریلیا میں رہتے ہوئے سب سے زیادہ مضامین کشمیریوں کے لئے انگلش اور اردو میں لکھے جو آج بھی انٹرنیٹ  پر موجود ویب سائٹس کی زینت ہیں تو وہ سید عتیق الحسن  ہے ۔ ۲۰۰۲ میں میرا کشمیر پر لکھا ہوا مضمون جو میں اسُ وقت لکھا تھا جس دنِ ایسٹ ٹیمور کو انڈونیشیا سے الگ کیا گیا تھا اور جس کا عنوان تھا:

 East Timor But Not Kashmir

جوساری دنیا میں مشہور ہوا ۔

 اگر کسی نے سب سے پہلے اور کئی سالوں تک متواتر کشمیر یوں کی  آزادی کے لئے اور کشمیر میں ہو رہے معصوم لوگوں پر مظالم کے خلاف سڈنی کے مرکز میں احتجاج کیا تو وہ سید عتیق الحن اسکی فیملی ، دوست احباب اور کمیونٹی کے چیدہ چیدہ سرگرم اور مخلص کارکن تھے، جس کی تصویریں میری البم میں آج بھی محفوظ ہیں۔لیکن ایک تلخ   حقیقت یہ بھی ہے اور بہت سارے پرانے حلقہ احباب اس ِ بات کی گواہی دیں گے کہ ہمیشہ سے ایک نام نہاد  ، نا اہل اور ذاتی مفاد پرست ٹولہ نے ہمیشہ اسِ طرح کے پروگراموں کا بائیکاٹ   اسِ لئے کیا   تاکہ انُ کی دکان چلتی رہے،اور میرے اور میری ٹیم کے تعمیری ، اعلی و معیاری اور با مقصد پروگراموں کی بجائے بھونڈے قسم کے پروگرام  ہوتے رہیں جس میں صرف اور صرف پاکستان کے سفارتکاروں کی چمچہ گیری ، فوٹو سیشن اور ذاتی خود نمائی  جاری رہے۔ اللہ کی ذات کا بڑا احسان ہے کہ میں اسِ بد عنوان کلچر کو اچھی طرح شروع سے ہی سمجھتا رہا ہوں کیونکہ میں نے اپنے قلم سے اسِ  گندےکلچر کے خلاف جہاد جاری رکھا ہوا ہے، اور آج تک اصولوں پر نہ تو کسی سفارتکار کی چمچہ گیری کی اور نہ ہی کسی سیاسی و سرکاری شخصیت کی چاپالوسی کی۔ اللہ کا کرم ہے کہ میں پاکستان  ، پاکستانیوں اور مسلمانوں کے لئے اپنی بساط کے مطابق اپنا فرض سمجھ کر کام کر رہا ہونگا۔فکر اور خوف  انِ نام نہاد لیڈران سے یوں کبھی نہ رہا کیونکہ    یہ وہی طبقہ ہے  جن  کے روٹ پاکستان میں کرپٹ سیاستدانوں، حکمرانوں  اور افسر شاہی سے ملتے ہیں جو کشمیریوں کے حقوق کے لئے کیا  آواز اٹھائیں گے  انہوں نے تو آج پاکستان کی سالمیت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یقینا عام  اور محب وطن  پاکستانیوں کی بے لوث ہمدردیاں کشمیریوں کے ساتھ ہیں ۔اگر کوئی اسِ کرہ ارض پر اللہ کے بعد کشمیریوں کی حقوق کی جنگ میں انکے شانہ بشانہ کھڑا  ہے تو وہ  عام پاکستانی ہیں۔ مگر افسوس کے پاکستان کو لوٹنے والوں نے اور پاکستان کے نام پر اپنے مفادات کی تکمیل کرنے والوں نے پاکستان اور پاکستان  سے باہر کشمیر  یوں کے حقوق کی آواز کے نام پر اپنی  ذات کا نام کمانے کی کوشش کی ہے۔ یہی کچھ حال یہاں سڈنی میں بھی  ہے۔نام  نہاد کشمیر کونسل، نام نہاد پاکستان ایسوسی ایشن جن کے کرتا دھرتا   عوام میں یا میڈیا میں  آکر کشمیر پر کوئی جامع بیان  دینے کے نا تو اہل ہیں اور نہ ہی کسی اہلیت والے شخص کو آگے لانا چاہتے ہیں۔ کیا روائیتی قسم کے پروگراموں اور کسی کمیونٹی ہال میں چند ارد گرد کے افراد کو بٹھا کر فضول قسم کی تقریریں کرنے سے اور سفارتکاروں کی چاپالوسیاں کر نے سے یہاں آسٹریلیا میں کشمیر یوں کی حقوق کی جدوجہد کو کوئی فائدہ پہنچایا جا سکتا ہے ہر گز نہیں۔

 پاکستانی سرکار ہر سال سفارتکاروں کو کشمیریوں کی حقوق کی جدوجہد کی آواز کو دنیا میں موثر بنانے کے لئے فنڈز مختص کرتی ہے یہ فنڈز سفارتکاروں، پریس اور ڈیفنس اتاشیوں کو دیا جاتا ہے ؟ آخر یہ فنڈز کہا جارہا ہے؟ یہ فنڈز انِ نمام نہاد کمیونٹی لیڈران سے چھوٹے موٹے احتجاج اور کمیونٹی پروگرام  منعقد کراکے ہضم کر لیا جاتا ہے اور  کشمیر کے نام پر  روائتی قسم  کے احتجاج کرکے فوٹوسیشن کے ذریعہ   فائیلوں  اور سرکاری میڈیا کا پیٹ بھر دیا جاتا ہے۔ کیا اسِ قسم کے روائتی اور فوٹو سیشن سے کشمیریوں کے مقصد کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے؟

 مگر سوال تو یہ ہے جب پاکستان میں بھی حال  یہ ہو کہ جہاں  وزیر اعظم پاکستان اور اسکی ساری کابینہ کو یہ پتہ نہ ہو کہ وہ یوم الحاقِ کشمیر کے دنِ پر یوم سیاہ منا نے جار ہیں  تو کیا کشمیری اورکشمیریوں  کے حقوق کی بات !

بڑے دکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کشمیر یوں کے حقوق کی جنگ کو پاکستانی حکمرانوں اور سیاستدانوں نے  ہمیشہ صرف اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کیا ہے۔ پاکستان کشمیری کونسل  پر شروع سے ہی ایسے افراد نے قبضہ کیا ہوا ہے جن کو کشمیر کے کاز کے نام  پر بیرونی دورے اور عالمی لیڈروں کے ساتھ میل جوڑ بڑھانے کے مواقع چائیں۔ یہ شاید ۱۹۹۶ کی بات ہے میں اسُ وقت کچھ عرصہ کے لئے امریکہ کے شہر شگاکو میں مقیم  تھا  وہاں  پاکستان کشمیر کونسل کا  وفد  سرکاری خرچہ پر امریکہ کا دورہ کرنے آیا۔  اسِ دورہٗ میں حقیقی کشمیریوں کے علاوہ تمام سیاسی شخصیات شامل تھیں جس کی سربراہی مرحوم نواب زادہ نصراللہ  خان کر رہے تھے اور وفد میں  مرحوم غلام مصطفی جتوئی، مولانا فضل الرحمن، یوسف رضا گیلانی بھی شامل تھے۔ یہ وفد شگاکو کے ایک نامی گرامی فائیو اسٹار ہوٹل میں  قیام پذیر  تھا۔ ہر روز اسِ وفد کی نامی گرامی اور رئیس الوقت پاکستانیوں کے ہاں دعوتیں ہو رہی تھیں۔  غرض کہ کشمیر یوں  کے حقوق کی آواز کو امریکہ میں بلند کرنے کے علاوہ یہ وفد وہ سب کچھ کر رہا تھا جو عام طور پر پاکستانی سیاستدان  بیرونِ ملک دوروں میں کرتے ہیں۔ پھر اسی ہوٹل میں   پاکستانیوں کے ساتھ ایک شام بھی منعقد کی گئی ، جس میں مجھے بحیثیت بیورو چیف پاکستان ٹوڈے امریکہ کے مدعو کیا گیا ۔ یہ ٹھیک اسی دنِ کی بات ہے جس دنِ پاکستان میں بے نظیر کے بھائی مرتضی بھٹو کا قتل کراچی میں قتل ہوا تھا۔ بارحال تقریب  شروع ہوئی تو پتہ چلا  نواب زادہ نصراللہ خان کہیں لیٹ ہوگئے ہیں اور کافی دیر انتظار کے بعد پتہ چلا کہ  نواب صاحب کسی خاص دکان سے اپنے لئے نیا حقہ خریدنے گئے ہوئے ہیں اور حقہ ملنے میں تعخیر ہو گئی ہے، میں نے جب محفل میں کھڑے ہوکر چھبتے ہوئے سوال کئے اور پوچھا کہ آخر آپ لوگوں  نے اب تک اسِ دورہ میں کشمیر کے کاز کے لئے کیا کیا تو اسی محفل میں آئے پاکستانیوں نے مجھے چب کر ادیا گیا اور پھر اس تقریب کے منتظمین میں سے کئی سارے مجھ سے نارض ہوگئے اور مزید مجھے  ایسی محفلوں میں بلانا  مناسب نہ سمجھا!

پاکستان  کے  حکمران اور سیاسی بازی گر کشمیریوں کی حقوق کی بات کرتے ہیں ان کو شرم  آنا چائیے کیونکہ انہوں نے کشمیریوں کے حقوق کے لئے دنیا بھر میں سرگرمیوں اور جدو جہد کے نام پر آج تک پاکستان کے قومی خزانے کا اربوں روپیہ پچھلے ساٹھ سالوں میں کھا چکے ہیں۔ کشمیر کے کاز کو انہوں نے کیا تقویت پہنچائی ہے۔ کشمیر یوں کے حقوق کی بات تو ایک طرف  کیا پاکستان میں بسنے والے مختلف طبقات کے بنیادی حقوق انہوں نے فراہم کئے جس کی بدولت انہوں نے اربون ڈالرز کی ملکیت پاکستان سے باہر بنالی ہیں؟ ان نام نہاد سیاستدانوں نے پاکستانیوں کو صرف صوبائیت ، لسانیت اور فرقہ واریت پر تقسیم کیا ہے اور تحفہ میں کرپشن، بے حسی، خوف اور جہالت دی ہے۔

بات یہ  ہے کہ جب تک ہم منافقت نہیں چھوڑیں گے، جب تک ہم اپنے ساتھ انصاف نہیں کریں گے، ہم  اپنے ساتھ خود  سنجیدہ نہیں ہونگے؛ ہم  کسی کے  لیے کیا حقوق  کی جنگ لڑ سکتے ہیں ، ہم کیا کسی کے ساتھ انصاف کر سکتے ہیں اور ہم کس کے ساتھ سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔ ویسے نعروں، تقریروں اور دعوئوں کی حد تک ہم جو جی  چاہے  ڈینگیں مار لیں!

جب تک ہم اپنے ذاتی مفاد اور اپنے ذاتی  نام و نمود کی خاطر قومی فریضوں کا سودا کر تے رہیں گے ہم کشمیر یوں کے لئے تو کیا  پاکستان کی  سرحدوں کی  حفاظت بھی شاید نہ کر سکیں ۔صرف ایک صوبے میں اکثریت  میں نشستیں حاصل کرنے والا اور وہ بھی دھاندلی سے آج چاروں صوبوں کا وزیر اعظم ہے اور ہم بات کرتے کہ اسِ جمہوری نظام کو زندہ رہنا چائیے۔ ایک ایسا وزیر اعظم جو اپنی بیماری کو بھی اپنے کرتُوتوں کو چھپانے کے کئے استعمال کرتا ہے  اور  جو خود کو کشمیری کہتا ہے اُس  کو اسِ بات کا علم نہیں کہ یومِ الحاقِ  کشمیر  کسِ دنِ منایا جاتا ہے! شرم تم کو مگر نہیں آتی۔

یہاں ایک بات بہت ہی معنی خیز ہے اور جس پر ہر جی شعور پاکستانی کو دھیان دینا چائیے۔ نواز شریف جب لندن میں اپنی بیماری  کی چھٹیاں گزار رہے تھے تو انُ پر سب سے بڑی تلوار پاناما لیکس کی لٹکی ہوئی تھی  اور پورے پاکستان کی نظریں اسِ بات پر لگی ہوئی تھیں کہ کب نواز شریف پاکستان آتے ہیں اور کسِ طرح سے پاناما لیکس  کے اسکینڈل کا سامنا کر پاتے ہیں۔ ٹھیک اسُ وقت کشمیر میں بھارتی فوجی مظالم شروع ہوجاتے ہیں اور بھارت اور پاکستان کے میڈیا کی زینت پاناما لیکس کے بجائے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم بن جاتے ہیں جیسے ہی وزیر اعظم پاکستان کی واپسی لندن سے پاکستان ہوتی ہے۔ ہر پاکستانی کی نظریں کشمیر میں جاری نئے فوجی مظالم کی طرف لگ گئیں اور آج کوئی پاناما لیکس کی  کوئی بات نہیں کر رہا کیونکہ اسُ کی جگہ اب کشمیر نے لے لی ہے۔  آخر یہ ماجرہ کیا ہے یہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے مظالم ایک مرتبہ پھر ٹھیک اس وقت شروع کیوں ہوئے جب نواز شریف بری طرح پاناما لیکس میں پھنس چکے تھے۔ دوسری جانب جب نواز شریف پاکستان آتے ہیں عمران خان صاحب بچوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے اور کرکٹ ٹیسٹ میچ دیکھنے لندن چلے جاتے ہیں کیا عمران خان کے لئے یہ ہی وقت بہت مناسب تھا فیملی کے ساتھ گزارنے کا؟ طاہر القادری صاحب نے بھی لندن کا رخ ُ کیا اور اگر میری معلومات درست ہے تو موصوف اسِ وقت لندن میں قیام پذیر ہیں۔  جنرل راحیل شریف صاحب نے پاکستان میں  ہر طرح کی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ معاشی دہشت گردی کے خلاف اعلان جنگ شروع کیا ہوا ہے ۔ تو کیا پاناما لیکس میں جو کچھ منظر عام پر آیا  وہ معاشی دہشتگردی کے زُمرے میں نہیں آتا؟ سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فوج اور رینجرس نے دہشتگردی کے خلاف آپریشن شروع کیا ہوا ہے مگر اندورنِ سندھ جو دہشتگردی اور اغوا کی وارداتیں ہو رہی ہیں اسُ پر کوئی خاطر خواہ آپریشن نظر کیوں نہیں آرہا؟ جس ملک میں  شہر میں دنِ دھاڑے چیف جسٹس کا بیٹا اغوا ہوجائے اور ایک ماہ بعد بھی اس کا پتہ نہ چل سکے تو وہاں یہ کسِ قسم کا آپریشن ہو رہا ہے؟  جنرل راحیل شریف صاحب کا یہ دعوی ہے کہ پاکستان میں جاری ضرب عضب بلا امتیاز سب دہشتگردوں کے خلاف جاری ہے، مگر دوسری جانب سندھ کےوزیر ، مشیر اور اعلی سرکاری افسران  اغوا جیسے جرائم  میں ملوث ہیں لیکن انکی کوئی پکڑ نہیں۔ خبریں یہ آرہی ہیں کہ سندھ کا ایک اعلی وزیر چیف جسٹس کے اغوا ٗ  کے جرم میں شریکِ کار ہے مگر اس کو گرفتار نہیں کیا جاتا اور نہ ہی لاڑکانہ میں کراچی کی طرز پر آپریشن کی ہمت کی جاتی ہے۔ یہ کسِ قسم کا نظام پاکستان میں چل رہا ہے، کیا ہم انِ سلسلوں کو جاری رکھ کر پاکستان کو لائق بیرونی خطروں سے نمٹ پائیں گے اور پھر کشمیریوں کے لئے کچھ کر پائیں گے؟ لحاظہ ہمیں منافقت ، دکھاوے اور ذاتی نام و نمود سے باہر آنا ہوگا ۔  جنرل راحیل شریف صاحب !اگر پاکستان سے یہ استحصالی  اور بد عنوان طبقہ کا بلا امتیاز  صفایا نہیں کیا  گیاتو اللہ نہ کرے کشمیر کو تو چھوڑیے بلوچستان اور کراچی کو بچانا بھی کبھی مشکل نہ ہو جائے گا اور بنگادیش کے بعد شرمندگی ایک مرتبہ پھر ہمارا مقدر بن جائے۔