!کامیاب زندگی کے لئے کیا ضروری ہے

سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیاء

مشہو ر انگلش شاعر اور مفکر شیخس پییئر نے دنیا اور انسان کے رشتے کو اپنے فلسفے میں کچھ اسِ طرح بیان کیا ہے کہ دنیا ایک اسٹیج ہے جہاں انسان آتے ہیں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ۔مگر میں اسِ میں کچھ اسِ طرح سے اضافہ کرنا چاہوں گا کہ دنیا میں آنے اور جانے والے انسانوں میں ایسے انسان بھی ہوتے ہیں جو دنیا کے اسِ اسٹیج پر ایک سے زیادہ کردار ادا کرنے آتے ہیں کیونکہ انسان کو پیدا کرنے والے نے ان گنت خوبیوں اور صلاحیتوں سے نوازہ ہے۔بس انسان کو اپنے اندر ان صلاحیتیوں کو سمجھنے اور انکو استعمال کرنا آنا چایئے۔ اور جب انسان ایسا کرنے میں کامیاب ہوتا جاتا ہے اور اپنی زندگی کا مقصد سمجھ لیتا ہے تو پھر وہ اسِ طرح کے کام سر انجام دیتا ہے کہ بقول شاعرِ مشرق علامہ اقبال ’ خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے‘۔ہماری زندگی محیط ہے ہمارے کئے گئے فیصلوں پر۔ہمارے فیصلے ہی ہمیں مختلف کرداروں میں ڈھالتے ہیں۔ پھر یہ کردار ہمارے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم کیا ہیں اور ہماری زندگی کیسی ہے، ہم کامیاب ہیں یا ناکامیاب۔ لحاظہ کامیاب زندگی کا انحصار زندگی میں کئے گئے فیصلوں پر ہے۔ صحیح فیصلوں کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں پیدا ہونے والے مسائل کا صحیح حل تلاش کریں۔ ہم سب زندگی کی بنیادی حقیقتوں کو اپنے اپنے حساب سے جانتے اور سمجھتے ہیں مگر بہت کچھ جا نتے اور سمجھتے ہوئے بھی مسائل کا شکار رہتے ہیں، خواہشات کی طلب رکھتے ہیں اور اپنے خوابوں کو زندگی کی حقیقتوں میں ڈھالنا چاہتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے خواب شرمندہ تعبیر ہو جاتے ہیں اور بہت سوں کو حاصل کرنے کے لئے ہم بیتاب رہتے ہیں۔ صبر، قسمت، امید اور دعا جیسے لفظ اور ان کے پیچھے بسا ہو ۱ یقین ہمیں کچھ سہارا تودے دیتا ہے۔ مگر جب ہمارے مسائل حل نہیں ہوتے ، ہماری پریشانیاں ختم نہیں ہوتیں یا ہمارے منصوبوں کی تکمیل نہیں ہوتی تو ہم بے سکونی کی کیفیت میں مبتلا رہتے ہیں۔بے سکونی ہمارے اندر انتشار کو جنم دیتی ہے جس کا اثر ہماری دماغی کیفیت پر پڑتا ہے۔ ہمارے رویہ میں تبدیلی وقوع پذیر ہوتی ہے اور ہم زندگی سے پریشان رہتے ہیں۔ میں یہ بات اکثر کرتا ہوں جو میں نے اپنی زندگی میں ہونے والے تجربات سے سیکھی ہے کہ زندگی میں کوئی شارٹ کٹ (یعنی چھوٹا راستہ) نہیں ہے۔ شارٹ کٹ لگانے والے اکثر زندگی میں شارٹ ہی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ہر بڑے مقصد یا منزل کو حاصل کرنے کیلئے ہمیں ایک قیمت ادا کرنی ہوتی ہے جو محنت، ہنر، تعلیم، پیسہ یا مستقل مزاجی کی شکل میں ہو سکتی ہے۔
جیسے جیسے دنیا آگے کی طرف بڑھ رہی ہے ، عیش و آرام کے لئے نتِ نئے طریقے میسئر ہو رہے ہیں ۔مگر ان کو حاصل کرنے کے لئے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ محنت ہی نہیں کر نی پڑرہی بلکہ لوگ سخت دوڑ کا شکار ہیں۔طالبعلموں کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے کیونکہ مقابلہ سخت سے سخت ہوتا جارہا ہے۔ نوکری پیشہ افراد کا گزارا اب ایک نوکری سے نہیں ہوتا۔ اب ایک سے زیادہ لوگوں کو نوکریاں کرنی پڑتی ہیں تب بھی بھی ضروریاتِ زندگی پوری نہیں ہوتیں ۔کاروباری افراد کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لئے پہلے سے کہیں زیادہ محنت اور نئے نئے طریقے استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ اسیِ طرح سے جیسے جیسے ہم ذہنی طور پر زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں ہمارے مسائل بھی نئی سے نئی شکل اختیار کر رہے ہیں ۔ کبھی ذاتی مسلہ تو کبھی فیملی کے مسائل ، کبھی اپنے مستقبل کو سنوار کی فکر تو کبھی اپنے کاروبار میں نئے سے نئی پریشانی ۔
بیشتر دفع ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم ہمارے مسائل کو اچھی طرح سمجھتے ہیں اور اسکا حل بھی جاتنے ہیں مگر ہم فیصلہ نہیں کر پاتے کہ ایک نئے مسلے کے حل کے لئے یا ایک ذاتی یا کاروباری مسلہ سے نمٹنے کے لئے جو فیصلہ ہم کرنے جا رہے ہیں وہ صحیح بھی ثابت ہوگا یا نہیں ۔ ہم کسی مینٹر یا کونسلر کے پاس اسِ لئے نہیں جانا چاہتے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اسکی ضرورت نہیں کیونکہ ہم ہر چیز اچھی طرح سمجھتے ہیں اور حالات سے مقابلہ کرنے کی ذہنی صلاحیت بھی رکھتے ہیں مگر پھر بھی ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے فیصلہ پر پراعتمادی سے عمل کریں ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارا کیا ہوا فیصلہ ہی موجودہ حالات میں بہترین فیصلہ ہے۔ پھر بے شمار ہمارے ذاتی یا کاروباری مسائل یا فیصلے اسِ نوعیت کے ہوتے ہیں کہ ہم نہیں چاہتے کہ کسی کو اس مسلہ کا حصہ دار بنائیں یا کسی سے مشورہ لیں۔ دوسری طرف اپنے ذاتی فیصلوں پر اگر پور ی طرح اعتماد نہ ہو تو ایک ذہنی بے سکونی سی جنم لیتی ہے۔ کچھ شکوک و شبہات کے ساتھ کئے گئے فیصلے دلِ و دماغ میں سوالیہ نشان قائم کر لیتے ہیں۔ 
مسائل کا صحیح حل اور موجودہ یا مستقبل کے لئے کئے فیصلے اگر صحیح ہوں تو زندگی میں کامیابیاں ، مسرتیں اور خوشیاں جنم لیتی ہے۔ زندگی کی کامیابیاں، مسترتیں اور خوشیاں انسان میں خود اعتمادی پیدا کر تی ہیں ، صلاحیتوں میں اضافہ پیدا کرتی ہیں، رویہ میں اثر انگیز خوبیاں پیدا کرتی ہیں ۔ اور انسان انِ کی بدولت اپنے قریب لوگوں سے ، عزیز و اقارب سے، ہم منصب سے، ساتھ کام کرنے والوں سے، کاروباری شراکتداروں سے نیک نامی اور عزت وصول کرتا ہے ۔ ورنہ انسان کی زندگی ایک سوال بن کر رہ جاتی ہے؟
مسائل کا صحیح حل، کامیابیوں کے لئے کئے گئے منصوبوں پر صحیح فیصلے ایک کامیاب زندگی میں نہایت ہی ضروری ہے جس کے لئے ہمیں ضرورت ہوتی ہے ایک ایسے فرد کی جو ہمارے مسائل ، پریشانیوں یا منصوبوں کو راز میں رکھ کر ہماری بات سنے۔ ہمیں اپنا مشورہ یا رائے نہ دے اور نہ ہی کونسلر کی طرح ہمیں کوئی ڈکٹیشن دے بلکہ ہمارے ساتھ ملکر ہمارے مسلہ کی جانچ پڑتال کرے ، سیاق و سباق پر ملکر مثبیت انداز سے تجزیہ کرے اور پھر ہمیں جو حل نظر آتا ہو اسکی ہمارے ساتھ مل کر اچھی طرح سے پرکھ کر لے۔ ہمارے ارادوں اور فیصلوں پر ہمیں اعتماد فراہم کرے۔ اور جب ہم طے کئے گئے فیصلوں پر عمل درآمد کریں تو وہ ان پر نظر رکھے ، ہماری پروگریس کا جائیزہ لے اور ہمیں صحیح سمت
میں موٹیویٹ کرتا رہے۔ جب بھی ہمیں کوئی تبادلہ خیال کرنا ہو تو ہمارے لئے موجود ہو۔ اور پھر ہمیں اسکی قابلیت اور ہنر پر اعتماد بھی ہو۔
سامعین، انہیں معاملات اور سوالات کو سمجھنے کے لئے میں نے اپنی خدمات لوگوں کے لئے پیش کی ہوئی ہیں۔ جیساکہ بہت سارے لوگ جو میرے پیشہ یا تعلیم کے بارے میں جانتے ہیں کہ میں ایک تجربہ کار صحافی، تعلیمی ماہر اورسماجی کارکن کے علاوہ ایک انٹرنیشنل مستند لائف کوچ بھی ہوں ۔ جی ہاں لائف کوچ کا مطلب ہے آپ کو اپنی زندگی میں پید ا ہونے والے مسائل کو سمجھنے اور انکا حلا تلاش کرنے والا آپ کا ساتھی۔ اسِ سلسلہ میں میں چاہتا ہوں کہ ذاتی زندگی یا معاشرتی مسائل سے جڑے مختلف موضوعات پر میں سلسلہ وار لیکچر منعقد کروں اسِ سلسلہ میں مجھے کچھ لوگوں کی ضرورت ہے جو ان لیکچرز کو منعقد کرنے میں میر ی مدد کریں۔

Recommended For You

About the Author: Tribune