نا اہل اور کرپٹ افسر ان کو بےنقاب کرنا پاکستان کے عالمی وقار کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

،سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیا

پاکستان کے قیام کا مقصد، پاکستان کی عالم اسلام میں اہمیت ،  وقار،  پاکستان کی تعمیر و ترقی ، پاکستانی عوام کے   جال و مال  کا تحفظ  اور دنیا میں  پاکستانیوں کی عزت بحال کرنا ہے تو پاکستانیوں کو اپنی سوچ میں تبدیلی لانا ہوگی، اور اسِ جدو جہد میں بیرونی ملک پاکستانی  کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ پاکستان میں بسنے والی 20 کروڑ عوام کو تو پاکستان کو لوٹنے والوں  اور  بتدریج پاکستان میں کرپشن پھیلانے والوں نے قیدکر رکھا ہے اور عوام  کی  سوچ کو غلط نظام کو اپنانے  اور ہر غلط کام  کو مجبوری  اور نظام کا حصہ مان کر اس کو اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ پاکستان میں بسنے والی عوام حرام خور اور نا اہل افسر شاہی،کرپٹ سیاستدان اور ظالم جاگیرداروں کے ہاتھوں مجبور ہیں اور اگر تھوڑے بہت لوگ آج پاکستان کے بوسیدہ نظام کے خلاف پاکستان میں جہدو جہد کر رہے ہیں تو انکی زندگیوں کا  کچھ پتہ نہیں کہ کب اور کہاں ٹارگیٹ کلنگ  یا دہشتگردی کا نشانہ بن جائیں۔ اسِ مقام پر اگر کوئی پاکستانیوں کی سوچ اور پاکستان کی بقاٗ  کے لئے بغیر کسی دبائو کے آواز کھڑی کر سکتا ہے تو وہ بیرونِ ملک محب وطن پاکستانی ہیں۔ بیرونِ ملک بالالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں بسنے والے پاکستانیوں  کواللہ تعالی نے یہ طاقت دی ہے کہ وہ پاکستان کو لوٹنے اور کرپشن کو فروغ دینے والے عناصر کے خلاف آوازِ حق بلند کر سکتے ہیں۔

 کسی ملک کی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک بیرونِ ملک تجارت اور دوسرے ممالک سے معاشی، فنی، زراعت ، ٹیکنالوجی ، تعلیم اوردوسرے اہم شعبوں میں تعلقات کے فروغ سے ہوتا ہے۔ اسِ حصول کے لئے ملک کا  محکمہ خارجہ کلیدی کردار ادا کر تا ہے، بیرونِ ملک قائم سفارتخانوں اور کونسل خانوں میں میرٹ پر ایسے افسران کا تقرر  کیا جاتا ہے جو  ملک کے لئے بیرونی دنیا سے سیاسی، معاشی، سیاحتی، ثقافتی،فنی،ٹیکنیکل غرض کے ہر اس شعبہ میں مفید رشتے  قائم کرنے میں انتھک محنت کرتے ہیں، وہاں مقیم  اپنے ہم وطنوں  پر نظر رکھتے اور جہاں اور جب کوئی منفرد اور  ماہر  ہم وطن  نظر آتا ہے اس کی صلاحیتوں سے اپنے ملک  کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد اور شروع کی ایک سے دو دھائیوں تک اسیِ طرز پر پاکستان کے محکمہ خارجہ نے کام کیا ۔ دنیا کے اہم ممالک میں پاکستان کے سفارتخانے اور کونسل خانے قائم کئے اور ان میں اعلی   خارجہ کے امور پر  اعلی تعلیم  اور قابلیت رکھنے والے افسران کو تعئنات کیا۔میں  جب اپنی کتاب آسٹریلیا فار پاکستانیز 2001 اور 2002 میں قلم بند کر رہا تھا تو اس سلسلے میں نے پاکستانی سفارتخانے  کے 1948 میں قیام کے بعد سب سے پہلے افسران سے اور پاکستان ائر لائن کے آسٹریلیا میں سب سے پہلی

 

Commander Kunhi first PIA Manager in Sydney in 1970

Commander Kunhi first PIA Manager in Sydney in 1970

برانچ  مینجر سے ملاقات کی اور انکا انٹرویو قلم بند کیا جو میری کتاب میں موجود ہے۔ جی ہاں بہت سوں یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پی آئی اے کا سڈنی میں آفس تھا ۔ جس کے خسارے اور تباہی  کےذمہ دار بھی   نا اہل اور کرپٹ  عناصر تھے جو محکمہ خارجہ میں سیاسی وابسطگیوں اور سفارشی نظام کے طفیل میں یہاں تعئنات کئے جاتے  ہیں ۔ پی آئی اے میں عام لوگوں کو ٹکٹ کم فروخت کئے جاتے تھے  اور سفارتی عملہ اور انکے خاندان کو سرکاری خزانے سے ٹکٹ زیادہ دئیے جاتے تھے ،  جعلی کارگو کا کم ہوتا تھا، پھر بلڈنگ کا کرایہ اور آفس کے بقاجات نہ دینے کی وجہ سے آفس کو بالاخر بند کرنا پڑا۔

 1960 اور1970  کی دھائی تک آنے والے سفارتی عملے نے آسٹریلیا اور پاکستان کے  مختلف شعبوں میں رشتے مضبوط کرنے  میں بہت اہم کر دار کیا اور شاید آج اگر تھوڑی بہت دونوں ممالک کے دورمیان  تھوڑے  بہت  دو طرفہ تعلقات قائم ہیں تو یہ وہی 40 سال پرانی کارکردگی ہے۔ اس کے بعد جب سے پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں بر سراقتدار آئیں اور انکے درمیان جو فوجی حکومتیں بھی آئیں تو یہاں قائم سفارتخانے اور کونسل خانے کو سیاسی ، لسانی، اور سفارشی بنیادوں پر چلایا گیا جس کی زندہ مثال دور حاضر کا سفارتی عملہ ہے۔ اگر سید عتیق الحسن نے انِ نا اہل افسران کی کارکردگی پر رپورٹنگ کی ہے تو وہ اس کی ذات کے لئے کچھ حاصل کرنے کے لئے کبھی نہیں رہا بلکہ اللہ نے اسکو یہ اہلیت دی کہ وہ اپنی صحافتی ذمہ داری  پاکستان کے وقار اور پاکستان کی عوام کے مفاد میں  کرے اور جب جب جہاں جہاں انِ سرکاری افسران کی غلط حرکات دیکھے اسکو عوام کے سامنے لائے۔

آسٹریلیا میں اکثریت میں جو بھی سفیر، کونسل  جنرل  ، پریس اتاشی  یا  ڈیفنس اتاشی پچھلے 30سالوں میں   تعئنات ہوئے ہیں  کیا انہوں نے اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو نبھایا ہے اگر نبھایا ہے تو پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تعلقات خطے کے دوسرے ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم درجہ پر کیوں ہیں۔ تجارت،  زراعت، سیاحت، تعلیم  اور افرادی قوت کے شعبوں میں کیا غیر معمولی کام کیا گیا ، کیا کبھی اس پر کوئی اشاعت کسی نے پاکستانی سفارتخانے اور کونسل خانے کی طرف سے دیکھی۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ پاکستانی سفیر سے لیکر کونسل جنرل  تک اکثر معیاد پوری ہونے کے بعد  بھی آسٹریلیا میں ہی مقیم ہیں۔ اسی کی تازہ مثال سابق کونسل  جنرل  کا سڈنی میں قیام ہے ، یہ سرکاری افسر اب کس حیثیت میں موجودہ کونسل  جنرل کے ساتھ کمیونٹی کی مختلف تقریبات میں نظر آتا ہے ۔ اپنے دورانِ ملازمت یہ افسران آسٹریلیا میں اپنے خاندا ن اور خود کے لئے مستقل سکونت اختیار کرنے پر کام کرتے ہیں کیا یہ  سنگین جرم نہیں؟ یہ پاکستان کے خزانے سے تنخواہ لیتے ہیں، اپنے باورچی، ڈرائیور،  گھر میں کام کرنے والے ساتھ لاتے ہیں آخر کیوں؟ اول تو پاکستان جیسے غریب ملک  کے افسران کو کیا یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ اپنا پورا کنبہ اور نوکر شاہی ساتھ لیکر آئیں۔یہ لوگ اپنی  مدت کے دوران پاکستان سے لوگوں کے مختلف قسم کے ویزے لگواتے ہیں جس کے شواہد میرے پاس موجود ہیں لحاظہ اگر یہ کہاں جائے کہ یہ لوگ انسانی  اسمنگلنگ میں بھی شریک جرم ہیں تو بے جا نہ ہوگا۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اور اس کے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں ہوتا؟  اس کی ایک سب بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ کرپٹ عناصر پاکستانی کمیونٹی میں اپنے ہی جیسے لوگ ڈھونڈتے ہیں ان سے تعلقات پیدا کرتے ہیں  انکو کمیونٹی  تنظیموں کے اعلی عہدوں پر لاتے ہیں تاکہ ان کرپٹ افسران کی نا اہلی اور انکے کے غلط کاموں پر پردہ ڈالنے والے اور انکو تحفظ فراہم کرنے والے لوگ بھی انکو پاکستان کمیونٹی سے ہی ملک جائیں ۔ لحاظہ جب جب کسی محب وطن پاکستانی  نے انکے کارناموں اور انکی ناقص کارکردگی  کو عوام میں لانے کی کوشش کی ان چالاک اور شاطر افسران نے اس کے خلاف  کمیونٹی  میں موجود اپنے گرد اکٹھا ٹولے کو استعمال کیا۔ جب جب میں انِ نا اہل اور کرپٹ افسران کے کارنامے مخلص اور درد مند صحافی میڈیا  میں لائے ا ن ِ کرپٹ افسران نے پاکستانی کمیونٹی کے لوگوں کو ا نکے  خلاف استعمال کیا ان سے اپنے حق میں  خطوط  لکھوائے اور محکمہ خارجہ کوخطوط کو  اپنے کارنامہ چھپانے کے لئے  استعمال کیا ۔   عیق الحسن کے خلاف بھی یہ ماضی میں ایسی حرکات کررہے ہیں۔ عیق الحسن  بلیک میل کرنے والا صحافی ہے اسکی کمیونیٹی میں کوئی عزت نہیں یہ دیکھئے اس کے خلاف یہ کمیونٹی کے با عز ت لوگوں کے خطوط موجود ہیں و غیرہ وغیرہ جن کے  میرے پاس ثبوت موجود ہیں۔

 عتیق الحسن نے صرف سچ اور صرف  سچ لکھنے اور پاکستان اور پاکستانیوں کے وقار اور عزت کے لئے اپنا قلم استعمال کرنے کی عہد کیا ہوا ہے جو انشاء اللہ جب تک اللہ نے جسم میں روح کو قائم رکھا ہوا ہے جاری رکھے گا کیونکہ عیتق الحسن کا یہ ایمان ہے کہ یہ اللہ پاک کا تحفہ ہے پاکستان کا قرض اگر میں اسِ ملک میں رہتے ہوئے  اسکواتار سکوں۔

آج میں  آسٹریلیا  میں بسنے والے محب وطن پاکستانیوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ آپ کی ذمہ داری نہیں ہے کہ مجھ سے سچ درفیات کریں اور جب آپ حقیقت جان لیں تو میرے ساتھ کھڑے ہوں  تاکہ کم سےکم آسٹریلیا میں توہم انِ کرپٹ افسران کا پتہ صاف کریں اور پاکستان میں  کی محکمہ خارجہ کی افسر شاہی کو یہ پیغام دیں کہ آئیندہ کم سے کم ایسے افسران کا تقری آسٹریلیا میں  نہ کیاجائے جو ملک و قوم کے لئے شرمندگی کا باعث ہوں۔

میرے عزیز پاکستانی ہم وطنوں اللہ تعالی نے ہمیں آسٹریلیا میں ہر نعمت سے نوازہ ہے کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں کہ اگر آج پاکستان اور پاکستا نی عوام جن مشکلات کا شکار ہیں   اور جو  ملک کو لوٹنےوالی افسر شاہی اور کرپٹ سیاستدانوں کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں تو ہم یہاں بیٹھ کر کم سے کم ان لوگوں کے ساتھ تو کھڑے ہوں جو اپنی بسات میں رہتے ہوئے حق اور سچ کی بات کرتے ہیں۔

میں بہت جلد عوامی فورم کے نام سے سلسلہ وار  کمیونٹی  مینٹنگ کا انعقاد باقاعدگی سے کرنے جا رہا ہوں جس میں عام پاکستانیوں کو موقع ملا گا کہ وہ کمیونٹی کے مسائل اجاگر کریں ۔ جس میں آپ کے سوالات ہونگے اور میرے جوابات نیز کمیونٹی کے باقی محب وطن اور اہل قائدین کے دعوت دی جائے گی کہ وہ بھی پاکستانی کمیونٹی کی بھلائی کے لئے رابطہ مہم کے طور پر انِ مینٹگ میں شرکت کریں جو سفارتی کارکردگی کے علاوہ کمیونٹی اور پاکستان سے منسل مسائل کو میز پر لائے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس کام میں میرا ساتھ دسکتے ہیں  تو آئیے اس کام میں دیر کسِ بات کی۔ ہم نے انشاء اللہ پاکستانی کمیونٹی کو اپنی آئیندہ نسلوں کے لئے ایک عزت دار اور دوسرے کمیونیٹیز کے لئے مثال بنانا ہے۔