پاکستانی قوم فیصلہ کن موڑ پر ؛

سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیاء

عزت کی موت یا بے غیرتی کی زندگی

آج پاکستان کے معماروں اور محب وطنوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے۔ مفاد پرست اپنے چھوٹے چھوٹے مکانوں سے نکل کر بڑے بڑے محلات میں رنگ رلیاں منا رہے ہیں۔ متعصب، مفاد پرست اور کرپٹ ٹولہ نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور گنے چنے محب وطن رہنماؤں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔شریف آدمی اپنی عزت اور عزتِ نفس بچانے کی جہدوجہد میں خود کشی پراتر آیا ہے تو دوسری طرف قوم و ملک کی دولت لوٹنے والے عیاشیاں کر رہے ہیں۔ بددیانتی، فریب اور مکر کی ایسی مثالیں نظر آتی ہیں کہ ایک با ضمیرپاکستانی کا سر شرم سے جھک جا تا ہے۔ آج پاکستان کی باگ دوڑایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو جھوٹے ہی نہیں بلکہ ان میں غیرت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ دوسری جانب قوم اپنی کمزوریوں، غفلتوں اور بے راہ روی کے ہاتھوں بے ضمیر حکمرانوں کے آگے بے بس نظر آتی ہے۔

بد نصیبی کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے پاکستان کو نقصان پہنچایا۔جنہوں نے فرنگیوں اور آمروں کی گود سے جنم لیا، جن لوگوں نے بے دردی سے قومی دولت کو لوٹا آج وہ لوگ اور ان کی نسل کو قائد عوام ، شہید اور جمہوریت کے علمبردار جیسے القاب سے نوازہ جاتا ہے ۔ قوم کی جہالت کا یہ حال ہے کہ پڑھے لکھے لوگ ایک سے زیادہ سمِ والے موبائلوں پر تو گھنٹوں چینٹگ کرکے ، غیر مہذب ویڈیوز دیکھ کر، بے ہودہ لطیفے ایک دوسرے کو موبائلوں پر بھیج کر اور آن لائن شوشل نیٹ ورکس پر فضول کا بحث و مباحثہ کرکے وقت برباد کر نے میں لگے ہیں ۔جس ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے مہذب معاشرہ میں لوگ اپنا معیار تعلیم بڑھارہے ہیں ،اعلی ایجادات کر رہے ہیں، بیرونی تجارت کو فروغ دے رہے ہیں اور قومیں معاشی انقلاب برپا کر رہی ہیں اسی ٹیکنالوجی سے آج پاکستان کی نئی نسل ذہنی بیماریوں، معاشرتی خرافات اور برائیوں کا شکار ہے ۔آج ہمارے سامنے ایک عام آدمی سے لیکر ذمے دار عہدہ پر بیٹھا افسر بھی شورٹ کٹ مارنے کے چکر میں بے اصولی زندگی گزار رہا ہے۔غرض کہہ پاکستانی قوم کا یہ حال ہے کہ اب اگر کرپشن اور مسائل کی بات کی جائے تو شوچنا پرتا ہے بات کہاں سے شروع کی جائے اور کیا کیا بیان کیا جائے۔ اچھائیاں ڈھونڈے سے نہیں ملتیں۔ ہمارے سامنے ویتنام، انڈونیشیا، تائیوان اور بنگلادیش جیسے ممالک کی مثال موجود ہیں جو کچھ عرصے پہلے تک پاکستان سے ترقی کے ہر میدان میں بہت پیچھے تھے۔
عبرت کا مقام یہ ہے کہ آج پاکستانی عوام ٹیلی ویزن کے کمرشل ٹاک شوز پر بھانڈ نما سیاسی بازیگروں کی بے ہودہ اور اخلاق سے گری ہوئی گفتگو سن کر لطف اندوز ہوتی ہے ۔ یہ ٹاک شوز ٹیلی ویزن کے پروگراموں کی ریٹنگ اور مارکیٹنگ میں تو اضافہ کر دیتے ہیں مگر کیا پاکستانی عوام ان سے کوئی سبق سیکھتی ہے ۔ کیا قوم ان سیاسی بازیگروں کے پیچھے چھپے ہوئے ان کے کارناموں کو جاننے کی کوشش کر تی ہے؟ کیا قوم اپنے ملک کے مفاد کی خاطر اور اپنا قومی فریضہ سمجھ کر یہ جاننے کی کوشش کر تی ہے کہ ان سیاسی بازیگروں نے ماضی میں کیا تھا ان کے بڑوں نے کیا گل کھلائے تھے۔ مطالعہ کی بات تو دور، آج پاکستان کے شہروں اور قصبوں سے لائیبریروں کو ختم کر دیا ہے۔ لوگوں کو کتابیں پڑھنے کا کوئی شوق نہیں اور نہ ہی وہ اس کی ضرورت محسوس کر تے ہیں۔ آج پاکستان کے تعلیمی اداروں میں نوجوان ہر امتحان نقل کی زور پر پاس کرتے ہیں۔ آ ج ذاتی ضرورتوں کو پورا کرنے اور محکماتی کرپشن کے نام پر اساتذہ سے لیکر تعلیمی افسران بھی کرپشن میں ملوث نظر آتے ہیں۔ ملک کے کچھ محب وطن دانشور، سماجی شخصیات، ادیب نقاد اور صحافی چلا چلا قوم کو جگانے اور آنے والی بربادی کا پیش خیمہ کر رہے ہیں مگر ان کی کوئی سننے والاکوئی نہیں۔
اگر موجودہ دورِ حکومت کا ہی جائیزہ لیا جائے تو آج پاکستان صرف چار سال سے کم عرصہ میں تباہی کے دہانے پر کھڑا نظر آتا ہے۔ نا ملک میں بجلی ہے نہ گیس، قتل و غارت گری عام ہے، اغواء اور عصمت درازی کی واردات معمول بن گئیں ہیں۔ ایک ایک کرکے پاکستان کے تمام بڑے قومی اداروں کو تباہ کر دیا ہے۔ آج نا جہاز وقت پر چل پاتے ہیں اور نا ہی ریل گاڑی۔ آج ملک میں موت سستی ہے اور آٹا مہنگا۔اور دوسری جانب حکمرانوں کا رویہ ایسے جھوٹ اور فریب پر منحصر ہے کہ جس کی نظیر کم سے کم مجھے تو نہیں ملتی۔آج امریکہ نے یکے بعد دیگرے پاکستان کی خود مختاری کو دھجیاں بکھیر دی ہیں اور ہمارے صاحبِ اقتدار اور عسکری قیات ڈر و خوف سے امریکہ کی ہاں میں ہاں ملانے پر مجبور ہیں۔امریکہ کے ساتھ خفیہ محاہدے، امریکی خفیہ ایجنٹوں کی پاکستان میں خفیہ کاروائیاں، ہر روز کے ڈرون حملے اور پاکستان کی سر زمین پر پاکستان کے جوانوں کو حملے نے دنیا کے سامنے پاکستان کو ایک ڈرپوک اور بے بس ملک بنا کر پیش کر دیا ہے۔ کیا یہ ہے پاکستان کا وقار؟ کیا یہ ہی ہے وہ پاکستان جس کے لئے بانیِ پاکستان نے کہا تھا کہ پاکستان دنیا کے لئے ایک عظیم اور باوقار راسلامی ریاست بن کر ابھرے گا۔
مہذب قوموں میں اگر کسی سیاسی رہنما کا ایک چھوٹا سا اسکینڈل ذرائع ابلاغ میں آجاتا ہے تو عوام اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے جب تک وہ اپنے لیڈر کو مجبور نہ کردیں کہ وہ اپنے عہدہ سے دست بردار ہو جائے مگر آج پاکستانی قوم کا یہ حال ہے کہ ہر روز نئے سے نیا ملک کو لوٹنے اور کرپشن کا واقع رو نما ہو رہا ہے مگر عوام ہیں کہ بس اپنی دھن میں مگن ہیں۔ آج اگر بجلی چار گھنٹے کی بجائے آٹھ گھنٹے آجائے تو لوگ خوشی کا اظہار کر تے ہیں۔ آج اگر ایک لیڈر کو اسِ لئے پسند کیا جارہا ہے کہ اس نے پاکستان میں کرپشن نہیں کی۔
میں یہ گارنٹی سے نہیں کہہ سکتا کہ عمران خان پاکستان میں ملک اور عوام کی بہتری کے لئے انقلاب لا سکتا ہے یا نہیں ۔ لیکن مجھے عمران کو دیکھ کر اس لئے تھوڑی سی امید کی کرنِ نظر آتی ہے کہ وہ کرپشن میں ملوث نہیں رہا اور یہ کہہ اس کے متعلق ابھی تک ملک کی دولت لوٹنے کاکوئی اسکینڈل سامنے نظر نہیں آیا۔آج اگر پاکستان کی کوئی بچا سکتا ہے تو وہ ملک کی اکثریت میں موجود نوجوان نسل ہے۔ آج اس نسل کے اپنے مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کو برباد ہونے سے بچالیں۔
آج پاکستانی عوام مجرم ہیں بابائے قوم محمد علی جناح اور ان لاکھوں شہیدانِ پاکستان کے جنہوں کے اس ملک کو بے مثال قربانیوں کے بعد بنایا۔ آج پاکستان کو بچانے کا ایک ہی راستہ نظر آتا ہے کہہ پاکستانی قوم اللہ کے حضور اپنے جرائم کی معافی مانگیں اور پاکستان کو بچانے کے لئے بلا خوف و خطر کھڑے ہوجائیں۔پاکستان کے نام پر سیاست کرنے اور ملک کو لوٹنے والوں حکمرانوں کو انکے محلوں اور ایوانوں سے نکالیں۔ ان کو چوراہے پر لاکر ایسی عبرتناک سزا دیں کہ ان کی نسلیں یا تو کبھی ملک کی سیاست میں آنے کاسوچیں نہیں اور سوچیں تو صرف ملک و قوم کی خدمت کو اپنا مشن بنائیں۔
آج پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دونوں محا ذ وں پر خطرہ ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت جس کا ماضی یہ ثابت کر تا ہے کہ وہ اپنے فائدہ کے لئے کوئی انتہائی اقدام کرنے سے نہیں چوکتا، آج پاکستان میں اپنے نہ صرف پیر جمانے پر تلا ہے بلکہ پاکستان کے جغرافیہ کو بھی تبدیل کرنے کے ناپاک عزائم رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے اندر ایسے بے ضمیر لوگ موجود ہیں جن کے ہاتھوں میں پاکستان کی باگ دوڑ بھی ہے اور جو اپنے مفاد کی خاطر پاکستان کا سودا کرنے سے بھی نہیں ڈریں گے کیونکہ انہوں نے نہ صرف اپنے اثاثے پہلے ہی دوسرے ممالک میں بنا رکھیں ہیں بلکہ شہریتیں بھی لے رکھی ہیں۔ لحاظہ اگر پاکستانی قوم نے اب بھی اپنی اجتماعی ذمہ داری کو محسوس نہ کیا تویاد رکھیں جو قوم تاریخ سے کچھ نہیں سیکھتیں وہ خود تاریخ بن جاتی ہیں۔ آج پاکستانی قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا انہوں نے امریکہ سمیت کسی بھی بڑی طاقت سے ڈر کر بے غیر تی اور غلامی کی زندگی گزارنی ہے یا پھر اللہ تعالی جو بے شک سب سے طاقتور ہے اور جو مالک ہے جہانوں کا کی ذات پر ایمان کو پکڑ کر عزت کے ساتھ باوقار قوم کی طرح رہنا ہے چاہے اس میں ہمیں اپنی جان ہی کیوں نہ کھونی پڑے کیونکہ موت تو برحق ہے۔

Recommended For You

About the Author: Tribune