ہندوستان کے کچھ با اہمیت ،   اہل، مخلص، اور  حقوق ِ انسانی کے الم بردار مسلمانوں نے   اسلام کی آزادی  اور مسلمانوں کے بنیادی  حقو ق  کو حاصل کرنے کا  بیڑا اٹھایا،ان کی جدوجہد  کا آخری فیصلہ میرا  وجود یعنی پاکستان کا قیام تھا۔ پھر مجھے حاصل کرنے کے لئے کارواں بنتا گیا لوگ شامل ہوتے گئے۔ لاکھوں لوگوں نے اپنی جان، مال اور تن مجھ پر قربان کردئیے ۔ بالآخر مجھے 14 اگست 1947 کو ہندوستان کی تقسیم کرکے حاصل کر لیا گیا۔ میرا  نام پاکستان رکھا گیا  جس  کا مطلب ہے  پاکیزہ زمین،یعنی میری سر زمین  پاکیزہ  مقاصد کے لئے ہوگی ، اسلام کا بول بالا ہوگا، ہرایک شہری کو مساوی حقوق ملیں گے اور مختلف فرقوں، قبیلوں، ذاتوں اور زبانوں میں  تقسیم لوگ  ایک پرچم  اور ایک وطنِ پاکستان کے  سایہ تلے دنیا میں وقار  ، خود داری  سے زندگی بسر کریں گے۔ ہائے    مجھے کیا پتہ تھا  کہ  میرا معمار کوئی اور ہوگا اور مجھ سے فائدہ اٹھانے والا کوئی اور۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ مجھے بنانے والوں سے چنُ چنُ کر بدلے لئے جائیں گے اورسارے ناپاک کام میری پاک زمین پر ہونگے۔مجھے کیا پتہ تھا کہ  میرے موجدِ محمد علی جناح کو  علاج کے لئے  بر  وقت    سہولت  تک مہیا نہ کی جائے  گئی اور وہ ایک ناکارہ ایمبولینس میں ہی   اسِ دنیائے فانی سے آہ اور سسکیوں کے ساتھ رخصت ہو جا ئیں گے۔ آج میرے بانی کی قبر کو بھی ہر نیا حکمران  دکھاوے  کے لئے استعمال کرتا ہے ، اسُ کی قبر پر پھول اپنی نام و نمود کے لئے چڑھا ئے جاتے ہیں ۔مجھے کیا پتہ تھا کہ  میرے بانی کے  سب سے پیارے اور گہرے ساتھی ، لیاقت علی خان کو ایک جلسہ عام میں گولی مار پر شہید کر دیا  جائے گا اور انُ کے قتل کو ایک معمہ اور سازش کا نام دیکر خاموشی اختیار کر لی جائے گی۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ  میرے بانی   کی حقیقی بہن ، فاطمہ جناح ، پر   عوام میں بات کرنے پر پابندی لگا دی جائے گی اور انکی موت بھی ایک پراسرار موت بن جائے گی!

 مجھے کیا پتہ تھا کہ ایک ایک کرکے میرے حقیقی قائدین کو مکار  اور بد عنوان جاگیردار، وڈیرے،  اور سردار جیتے جی مار ڈالیں گے ، قدغن لگا دیں گے یا پھر اُن  کے لئے میری زمین تنگ کر دی  جائے گی ۔  مجھے کیا پتہ تھا کہ میرے ایک حصہ کو سازشوں  اور نا انصافیوں  کی بھینٹ چڑھا  دیا  جائے گا۔ جن لوگوں نے میرے قیام کی تحریک پر سب سے پہلے لبیک کہا ،  سب سے پہلے اور سب سے زیادہ  تحریک چلائی  اُنکو بھکاری بنا دیا  جائے گا، اور انکو   مجبور کر دیا  جائے گا  کہ وہ مجھ سے ناطہ توڑ لیں  اور یوں میرا مشرقی بازو مجھے جدُا کر دیا جائے گا  اور الزام بیرونی سازشوں پر ڈال دیا جائے گا۔ آج مجھے توڑنے  کی سازشوں میں شامل  لوگوں  کی اولادیں میرے حکمران اور ہمدرد بنے بیٹھیں گے!    

آج میں   میری زمین پر  بسنے والےہر انسان سے سوال کرتا ہوں کہہ اگر آپ میری خاطر  بروقت   ہونے والی  سازشوں کے خلاف  کھڑے ہوجاتے  تو     کیا کوئی بیرونی سازش  کرکے میرے مشرقی  حصہ کو اتنی آسانی سے الگ کر سکتا تھا؟   میرے جسم کا ایک حصہ کاٹ دینے سے میں بے موت مر گیا تھا مگر میرے ساتھ دھوکہ بازی یہاں ہی ختم نہ ہوئی مجھے اُنہیں ظالموں نے یہ تسلی دی کہ اب اسِ بچے کچے حصہ کو وہ گلِ گلزار اور ایک قابل فخر ریاست بنائیں گے، جمہوریت، انصاف اور امن قائم کریں گے  وغیرہ وغیرہ ۔ مگر ان عیار لوگوں کی مکاریاں اور مجھ پر ظلم بند نہ ہوئے۔  مجھے مذہب، فرقہ، لسانیت اور صوبائیت کے نام پر بدنام کیا گیا۔  جو لوگ میرے  وجود کے نظریاتی مخالف تھے   انہوں نے مجھے اسلام کا قلعہ بنانے کی باتیں کرکے  اپنے مقاصد کے لئے  استعمال کیا۔ جنہوں نے میرے قیام کے وقت میری مخالفت کی تھی وہ اب میرا مطلب  لاالہ الا اللہ   بتاتے ہیں۔ آج مجھے اسلام کا قلعہ   پکارنے والے تمام غیر اسلامی کام میری گود میں بیٹھ کر  تے ہیں !

میرے قیام کے تھوڑے  عرصہ کے بعد  سے ہی مجھے لوٹنے اور اپنی اپنی ذات اور منصب کے لئے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آج تک جاری ہے۔ فوجیوں نے امن و تحفظ کے نام پر لُوٹا؛،جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں  نے سیاست و جمہوریت کے نام پرلُوٹا،  مولویوں  نے مذہب و فرقہ کے نام  پر لوُٹا،  کاروبار یوں نے ترقی کے نام پر لُوٹا،  سرکاری افسروں نے حکومتی ذمہ داریوں کے نام پر لُوٹا ، غرض کے جس کو جہاں موقع ملا ِ مجھے لُوٹا  گیا، میرے نام کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا مگر کسی نے میری عوام کو میرا سبق نہیں پڑھایا، میرے نام پر اکٹھا نہیں کیا!

مجھے کیا پتہ تھا  کہ   میرا وجود کا مقصد چند کاروباری اور جاگیر داری شخصیات کا   لوٹ کھسوٹ کرنا اور ساری دنیا میں اپنی  جائدادیں  بنانا ہوگا۔آج مجھے نظر آرہا ہے کہ  یہ بد عنوان  اور لٹیرے مجھے اتنا مقروض کر دیں گے  کہ ایک دنِ کوئی بھی قرضہ دینے والا مجھے آکر دبوچ لے گا اور یہ لٹیرے جنہوں نے میرا پاسپورٹ استعمال کرکے دوسرے ملکوں میں اپنی مستقل رہائش کے انتظامات کر لئے ہیں بھاگ جائیں گے۔

مجھے کیا پتہ تھا کہ جن لوگوں سے جان چھڑانے کے لئے مجھے اسِ دنیامیں لایا گیا آج اُن سے میرے مزید حصہ کرنے کے لئے اور اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے  مدد مانگی جائے گی ، ان کے ساتھ کاروبار کئے  جائیں گے ، ان کی ثقافت کو  میری سر زمین میں فروغ دیا  جائے گا۔ اُن سے دوستی کو دنیا کے ساتھ چلنے  کا سبق پڑھایا جائے گا۔آج میں میر ی 20 کروڑ عوام سے سوال کرتا ہوں کہ کیا اسی دنِ کے لئے مجھے ہندوستان سے الگ کیا گیا تھا؟

 میر ی  سالگرہ  کو جشن آزادی  کا نام دیا جاتا ہے  مگر کیا  آج میرے عام شہری کو  ذہنی و جسمانی آزادی ہے؟  آج میری  سالگرہ  جشن آزادی کے نام پر    صرف اور صرف اپنا کاروبار  چمکانے  کا  ایک سالانہ موقع رہ گیا ہے۔ میرے جھنڈے کو اپنی مہنگی گاڑیوں پر لہرایا  جاتا ہے  صرف اپنا  جاہ و جلال   اور شان و شوکت دکھانے  کے لئے۔  دکاندا ر میرے جھنڈے اور بینرز بیچ کر کمائی کرتے ہیں۔ فن کار میرے نام  کی  موسیقی کی محفلوں کی زینت بن کر پیسہ کماتے ہیں۔ نام نہاد قائدین ، سرکار ی افسران، وزیر، مشیر،  اور سفیر میرے اصول بیان کرکے اپنا  نام کماتے ہیں۔میڈیا جشن آزادی کی مہم کے نام پر اشتہارات سے بیش و بہا کمائی کرتا ہے۔ غرض کہ میری سالگرہ بس ایک کمائی کا ذریعہ بن گیا ہے۔ کیا کوئی میری سالگرہ ی پر یہ عہد کرتا ہے اور پھر اس پر عمل کرکے دکھاتا ہے کہ وہ  میرے وجود کے مقاصد  پر عمل کریگا اور ہر اُس  کام کے خلاف کھڑا ہوگا جو میرے قیام کے خلاف ہے۔

میری 20 کروڑ عوام آج میں زخمی ہوں اور شاید تم اسِ سے غافل ہو۔  آج میرے جسم کے ہر کونے سے لہو بہہ رہا ہے اور تم خاموش ہو! میں قرض میں ڈوبا  جا رہا ہوں اور تم تماشائی بنے ہوئے ہو۔ میرا خزانہ خالی ہے مگر مجھے لوٹنے والوں کے خزانے دنیا کے مختلف ملکوں میں پروان چڑ ھ رہے  ہیں اور تم کسی انتظار میں بیٹھے ہو آخر کیوں ؟ تم مجھے کسِ بات کی سزا دے رہے ہو؟  میری سرحدوں کو تبدیل کرنے  کے لئے  خون خوار درندے ملک کے اندر اور باہر گھات لگائے بیٹھے ہیں اور تم لا تعلق نظر آتے ہو آخر کیوں؟ آج مجھے لوٹنے والے ہی میرے  حکمران اور محافظ ہیں اور تمھیں جشن منانے سے فرصت نہیں آخر کیوں؟آج مجھے کون انِ لٹیروں سے آزادی دلائے گا؟ کیا کوئی اور مخلوق کسی اور سیارے سے اسِ زمیں پر اترے گی؟

  مجھےشکایت  میرے لوٹنے والوں پر نہیں مجھے شکایت  میرے اسُ عام آدمی سے ہے  جو پچھلے 60 دھائیوں سے  محض تما شایی  بنا ہوا ہے؟مجھے افسوس انُ میرے شہریوں پر ہے جنہوں نے   مجھ سے  وفا نبھانے کے بجائے انہی لٹیروں سے وفا  کی  ،انہیں کے آگے اپنی عزت و نفس بیچ دی ہے  اور  انہیں کے آگے اپنی غیرت گرویِ رکھ دی ہے کہ جنہوں نے مجھے برباد کیا۔ ارے میں پاکستان ہوں میری تمھاری ماں ہوں تم کسِ طرح اپنی ماں کو برباد ہوتے دیکھ سکتے ہو؟ اگر  میری زمین میں بسنے اور پیدا ہونے والے 20 کروڑ عوام صرف مجھ سے وفا کرتے میری حفاظت کو اپنا اولین فرض سمجھتے میرے نام کو ہی اپنی شناخت سمجھتے تو مجھے لوٹنے والے اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔  

مری داستان حسرت وہ سنا سنا کر روئے
مرے آزمانے والے مجھے آزما کے روئے
تری بے وفائیوں پر تری کج ادائیوں پر
کبھی سر جھکا کے روئے کبھی منہ چھپا کے روئے

بقلم سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیاء