سید عتیق الحسن ، سڈنی آسٹریلیا؛

General Raheel Sharif and Nawaz Sharifپاکستانی افواج نے جنرل راحیل شریف کی  سربراہی میں ضربِ عضب  وزیرستان میں  شروع کیا  جس کی کامیابی کا شور  پورے پاکستان میں سنا گیا ۔ پھر اسِ آپریشن کو  رینجرز کے ذریعہ کراچی میں اسِ اعلان کے ساتھ شروع کیا گیا کہ یہ  دہشتگردوں کے خلا ف بلا تفریق  آپریشن ہے جس کو پورے سندھ اور پھر پنجاب میں  بھی کیا جائے گا۔ کراچی میں بھرپور انداز سے یہ آپریشن شروع کیا گیا ۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ   اسِ کا دائرہ  کار صرف   بنیادی طور پر متحدہ قومی مومنٹ کے کارکنان کے خلاف  تک ہی  محدود رہا  اور دہشتگردی کے جرم میں سینکڑوں گرفتاریاں بھی متحدہ کے کارکنا ن کی ہی  ہوئیں جس  کو پاکستان پیپلز پارٹی نے  بہت سراہا ،  پنجاب میں بھی اس کی تعریفوں کے پل باندھے گئے ۔ مگر جیسے ہی اسِ آپریشن کی آواز لاڑکانہ میں سنی گئی سندھ  کےموجودہ حکمران اور پیپلز پارٹی  کے قائدین آگ بگولا ہو گئے،  اور رینجرز کو سندھ حکومت نے مزید اختیارات دینے سے انکار کر دیا ہے!مگر اسِ  پر  آئی ایس پی آر کی طرف سے کوئی نیا ٹوئیٹ  نہیں آیا اور نہ ہی  ٹی وی پر  کوئی بریکنگ نیوز  دیکھی گئی!

 سوال یہ ہےکہ اگر یہ بلاتفریق دہشتگردوں کے لئے ایک آپریشن  جاری ہے  اور جو قومی ایکشن پلان کا حصہ ہے تو پھر  پاک افواج ، رینجرز یا وفاقی حکومت کو کسی سے اختیار مانگنے کی ضرورت کیا ہے؟

آج وزیر اعلی سندھ نے وفاقی حکومت کو صاف انکار کر دیا ہےاور کہہ دیا ہے کہ اسِ کا فیصلہ آصف علی زرداری  دوبئی میں بیٹھ کر کریں گے؟ راحیل شریف صاحب پاکستان قوم  تو اسِ انتظار میں تھی کہ آپ آصف علی زرداری کو بھی معاشی دہشتگردی کے جرم میں پاکستان لے کر آئیں گے؟ بقول آپ کی ہی ایجنسیوں کی تیار کردہ خفیہ رپورٹس کے کیا ڈاکٹر آصم نے آصف علی زرداری کے خلاف کافی ثبوت فراہم نہیں کر دیئے؟

مگر آج لگ یوں رہا ہے کہ موجودہ سندھ ، پنجاب اور وفاقی حکمرانوں کو  محفوظ کرنے اور دنیا کو دکھانے کے لئے یہ سب ایک دکھاوا تھا۔  اگر اسی طرح کامتناظہ  اور امتیازی آپریشن جاری رکھا گیا جس کا محور صرف کراچی اور مخصوص سیاسی عناصر کو نشانہ بنانا ہے تو پھر اسِ پاکستان کی سالمیت کو بچانا شاید مشکل ہو جائے۔ میں نے ہمیشہ وہ بات بلا تفریق  لکھی ہے جو پاکستان کی سالمیت کے ضروری ہے اور آج یہ لگ رہا ہے کہ اگر رینجرز کا آپریشن صرف کراچی کی حد تک ہی محدود کیا گیا اور اب اسِ کو صرف اسِ لئے بند کر دیا  جائے گا کہ سندھ کے حکمران  سندھ رینجرز کو  کراچی کے علاوہ سندھ کے کسی علاقہ میں کوئی آپرشن  نہیں کرنا دینا چاہتے تو اسِ سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ   پاکستان کی فوج انِ طاقتور لٹیروں ، بدمعاشوں، وڈیروں  اور جاگیرداروں کے آگے بے بس ہے۔