: سید عتیق الحسن، سڈنی آسٹریلیاٗ

Naela Chohanپاکستانی سفارتکار نائیلہ چوہان کی آسٹریلیا کے قومی ٹیلویزن اے بی سی کے پروگرام فور کارنرز پر ایک شرمناک انکشاف ہر مبنی ایک رپورٹ جس  کے ذریعہ اب یہ  بات منظر عام پر آئی ہے کہ نائیلہ چوہان صاحبہ  شاہد محمود نامی ایک کشمیری پاکستانی کو نوکری کا جھانسہ دیکر اپنے سفارتی عملہ کے طور پر اپنے گھر میں کام کاج کے لئے ایک سرکاری ملازمت کے طور پر لیکر آئیں پھر اس کو نہ  کبھی تنخواہ دی ، بلکہ قیدیوں کی طرح گھر کے نچلے حصہ میں قید خانے کی طرح کی جگہ پر رکھا گیا۔ شاہد محمود  سے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے کام کرایا گیا۔ بالاخر ایک دنِ اٹھا رہ ماہ ظلم و ستم سے تنگ آکر یہ نوجوان موقع پا کر نائیلہ چوہان کے گھر سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور سیدھا قانونی مدد  فراہم کرنے والے آسٹریلوی ادارے کے پاس پہنچ گیا۔ نائیلہ چوہان کی غلاموں کی طرح ایک سرکاری ملازم کو رکھنے کی شرمناک حرکت اب آسٹریلیا کے میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے  جس سے آج نہ صرف پاکستانی معاشرہ پر آسٹریلیامیں انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں بلکہ یہاں آسٹریلیا میں بسنے والے پاکستانیوں کے شرم سر سے جھک گئے  ہیں۔ سفارتکاروں کی اسِ طرح کی حرکات کا  آسٹریلیا میں یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔   میں  پچھلے بیس سالوں میں اپنی صحافت کے ذریعہ  ان کے کرتوتوں کو منظر عام پر لاتا رہا ہوں۔ مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ  جب جب میں  ہمارے سفارتکاروں کی کمزوریوں، نا اہلیوں اور غلط قسم کی حرکات کو اپنی صحافت کےذریعہ  عوام میں لایا، جس میں چاہے میرا اپنا انگلش اخبار ٹریبیون انٹرنیشنل ہو،  بین الاقوامی میڈیا ہو، پاکستانی قومی میڈیا  جنگ گروپ کا اخبار جہاں ہو یا  کوئی اور  پاکستانی  کموینٹی  میں سے ہی کچھ افراد کے ٹولے نے  بجائے اس کے کہ میری خبر کی تصدیق کرتے، سفارتکاروں کی حرکات کو عوام لانے کے میرے صحافتی کام کو سراہتے انہوں سفارتکاروں کو فون کرکے یا ذاتی طور پر ملکر میرے خلاف باتیں شروع کردیں ۔ یہ وہ ٹولہ ہے جس کو یہ سفارتکار باہمی مفاد کے نام پر پالتے ہیں، اور انِ  سے  ایسے ہی آڑے وقت وقت کے لئے تعلقات قائم رکھتے ہیں جب انِ کے کرتوت ہمارے جیسے محب وطن اور کمیونٹی کا درد رکھنے والے افراد منظر عام پر لاتے ہیں۔ آج میں ان لوگوں سے پوچھتا ہوں جو کچھ عرصہ قبل جب میں نے نائیلہ چوہان کی سوشل تقریبات میں متواتر حاضری اور اہم ایونٹ میں غیر حاضری سے متعلق لکھا تھا، جس میں نے ذکر کیا تھا کہ یہ سفارتکار نا اہل ہے، اپنے کام سے نا آشنا ہے اور لگتا یوں ہے کہ اسِ کا آسٹریلیا آنے کا مقصد صرف اور صرف سیر سپاٹے کرناہے۔ آج اسِ عورت کا ایک روپ اب پاکستانیوں کے سامنے ہے جس سے پاکستان کی یہاں آسٹریلیا میں بہت بد نامی ہوئی ہے۔ اور ساتھ ہی ایک غریب اور مسکین پاکستانی شاہد محمود کے ساتھ ہونے والی زیادیاں منظر عام پر آگئیں ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج ہماری کمیونٹی کہاں کھڑی ہے کیا وہ نائیلہ چوہان کے ساتھ ہے یہ پھر شاہد محمود کے ساتھ۔ کیونکہ آج ایک شاہد محمود کے ساتھ یہ واقعہ سامنے آیا ہے کل کوئی اور پاکستانی ہوگا۔ جب تک ہماری اپنی صفوں میں اسِ بات پر اتحاد نہیں ہوگا کہ اگر کوئی سفارتکار پاکستان کو بد نام کرتا ہے یا اپنے فرائض صحح طور پر انجام نہیں دیتا تو اس کے خلاف مشترکہ ایکشن لیا جائے اور اگر کوئی سفارتکار مثالی اور قابل فخر کام کرتا ہے تو اس کی عزت اور احترام کیا جائے ، اس وقت تک  آسٹریلیا میں  یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہے گا اور ہر کچھ عرصہ بعد ایسی ہی کہانیاں آسٹریلوی میڈیا اور سوشل میڈیا کی زینت بنتی رہیں گی۔